وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی و اہم قانونی فیصلہ: مقررہ مدت گزرنے کے بعد دائر نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے قانونی اور عدالتی نظام میں فیصلوں کے حتمی ہونے اور ملازمین کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور سنگِ میل فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل اعلیٰ سطحی تین رکنی بینچ نے ‘محمد اکرم بنام نیشنل بینک آف پاکستان’ کے اہم مقدمے کا محفوظ شدہ تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے اس فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت مقررہ مدت گزر جانے کے بعد دائر کی گئی نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر کسی بھی حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قانون کسی بھی فریق کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ وہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد مختلف قانونی فورمز کے ذریعے کسی حتمی فیصلے کو غیر مؤثر بنانے یا ختم کرنے کی کوشش کرے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن حکم میں واضح کیا کہ لیبر کورٹ کا 18 اپریل 2008ء کا فیصلہ حتمی قانونی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس لیے اس میں دی گئی تمام تر ہدایات کو دوبارہ کھولا یا چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں پنشن کے بنیادی حقوق پر انتہائی اہم قانون سازی و تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے تمام مالی فوائد کسی بھی ریٹائرڈ ملازم کا ایک مستحکم، باقاعدہ قابلِ نفاذ اور بنیادی قانونی حق ہیں جنہیں کسی مجاز عدالت کے واضح حکم کے بغیر ہرگز نہیں روکا جا سکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنشن کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی بلاجواز تاخیر یا غیر قانونی رکاوٹ ڈالنا نہ صرف ملازم کے قانونی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے ثابت شدہ فیصلوں سے انحراف اور صریح توہینِ عدالت کے مترادف بھی ہو سکتی ہے۔

مقدمے کے قانونی حقائق کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو 2008ء میں بحالی کا حکم دیا گیا تھا، تاہم اداروں کی جانب سے مختلف پیچیدہ قانونی کارروائیوں کے باعث وہ اپنے مکمل پنشن اور دیگر جائز ریٹائرمنٹ فوائد سے محروم رہا۔ عدالت نے تمام تر ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار محمد اکرم کی 1992ء سے 2017ء تک کی تقریباً 25 سالہ طویل ملازمت پنشن کے لیے مکمل طور پر قابلِ شمار ہے اور اس کی سابقہ تمام سروس کو بھی پنشن کے حساب کتاب میں لازمی شامل کیا جائے گا۔ عدالت نے اہم قانونی اصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ جو کام براہِ راست نہیں کیا جا سکتا، وہ بالواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور مقدمات و قانونی تنازعات کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام پذیر ہونا قانون کا بنیادی مقصد ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے اسے منظور کر لیا اور لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لیبر کورٹ کے 2008ء کے فیصلے پر فوراً عملدرآمد کا حکم جاری کر دیا۔

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر بڑی کامیابی؛ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں مبصر کی متفقہ رکنیت منظور

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے بین الاقوامی آئینی عدالتی برادری میں ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کی نو تشکیل شدہ وفاقی آئینی عدالت کو “ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں متفقہ طور پر مبصر کی حیثیت سے مستقل رکنیت دے دی گئی ہے، جو کہ عالمی سطح پر ملکی عدالتی برادری کے بڑھتے ہوئے کردار اور مؤثر ترین روابط کا واضح ثبوت ہے۔

اتوار کے روز وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس کا تزویراتی قیام 27 اپریل 2022ء کو استنبول (ترکیہ) میں عمل میں آیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ترک ممالک کے مابین آئینی انصاف، قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور عدالتی تجربات و بہترین آئینی فقہ کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم تنظیم کے مستقل اور مکمل ارکان میں ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان کی سپریم و آئینی عدالتیں شامل ہیں۔

ترک تنظیم کی جانب سے پاکستان کو مبصر کی حیثیت سے شامل کرنے کے اس مقتدر فیصلے سے متعلق جمہوریہ آذربائیجان کی آئینی عدالت کے چیئرمین اور کے موجودہ ٹرم صدر فرہاد عبداللایف نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان کے نام ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا۔ اس خط میں تصدیق کی گئی کہ تنظیم کے دستور کے آرٹیکل 10.4 کے تحت تمام رکن ممالک کی عدالتوں نے پاکستان کی شمولیت کی متفقہ منظوری دی ہے۔ فرہاد عبداللایف نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ممتاز آئینی مہارت اور اعلیٰ ساکھ تنظیم کی سرگرمیوں میں مثبت کردار ادا کرے گی اور یہ شمولیت ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط کرے گی۔

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اس مقتدر اور تاریخی پیش رفت کا شاندار خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی آئینی عدالتی روایت اور وفاقی آئینی عدالت پر بین الاقوامی برادری کے غیر متزلزل اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ یہ رکنیت وفاقی آئینی عدالت کے قانون کی حکمرانی اور آئینی طرزِ حکمرانی کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے۔ اس شمولیت سے پاکستان کو ترک دنیا کی عدالتوں کے ساتھ قریبی روابط استوار کرنے، علمی و ادارہ جاتی مکالمے میں شرکت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔