انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی؛ لوٹوں کے سہارے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا آپشن مسترد کر دیا، مولانا فضل الرحمان

Spread the love

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ سیاسی و مقتدر نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کھلا دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کے ذریعے پارلیمنٹ اور آئین کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں جمعیت لائر فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر اور بڑے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ مقتدر حلقے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انہیں بلوچستان حکومت میں شمولیت سمیت خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت گرا کر جے یو آئی کی حکومت بنانے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے صاف مسترد کر دیا۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ وہ لوٹوں کے سہارے اور مقتدر بیساکھیوں پر بیٹھ کر اس گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خلاف جاری پروپیگنڈے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ دائرہ اختیار اور غلط پالیسیوں سے اختلاف کرنے پر ان کی کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، لیکن وہ کسی کے سامنے سرنڈر کرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس افسر کے آفس سے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا وہ فوری معافی مانگے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے دل گرفتہ انداز میں کہا کہ انہوں نے باجوڑ دھماکوں سمیت اپنے علماء، اساتذہ اور 100 سے زائد کارکنوں کے جنازے اٹھائے ہیں، لیکن مقتدر حلقے کبھی ان کے جنازوں پر نہیں روئے، جبکہ وہ فوج کے ہر جنازے پر روئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں عدم اعتماد کی فضا خود مقتدر حلقوں کی غلط پالیسیوں نے پیدا کی ہے، جس کے باعث بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں پولیس فورسز اور عوام کے اندر شدید ترین خلیج اور دوریاں جنم لے چکی ہیں۔

انہوں نے ماضی کے تزویراتی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں بھی عوام سے البدر اور الشمس جیسے لشکر بنوائے گئے جس کے تلخ نتائج تاریخ کا حصہ ہیں، اور اب دوبارہ مقتدر حلقے عوام کو لشکر بنانے پر مجبور کر کے نئے دشمن پیدا کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ خوشامدی حکمرانوں نے اپنے رویوں سے عوام، پارلیمنٹ اور آئین کو کمزور جبکہ اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے تادیبی طور پر واضح کیا کہ اس وقت ریاست کی ساری توانائیاں عوامی فلاح کے بجائے صرف اور صرف اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور مقتدر طبقہ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہدا کے خون کو بطور ایندھن استعمال کر رہا ہے۔