Latest news

عراق کے کردستان ریجن میں کوملہ کے اڈے پر ایرانی ڈرون حملے کا دعویٰ

Spread the love

محمود احمد، 25 اکتوبر 2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں ایرانی حکومت کی مخالف کرد جماعت کوملہ کے ایک اڈے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق یہ کارروائی بالیسان کے علاقے میں کی گئی، جبکہ ایرانی حکام نے اسے ’’پیشگی اقدام‘‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں کوملہ کی عسکری صلاحیتوں کو خاصا نقصان پہنچا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

کوملہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے اہلکار علی رنجبر کے مطابق حملہ رات تقریباً 10 بجے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حاجی عمران سرحدی گزرگاہ کی سمت سے علاقے میں داخل ہوا۔ فراہم کردہ معلومات میں حملے سے ہونے والے جانی نقصان، عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان یا اڈے پر موجود افراد کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور عراق کے کردستان ریجن میں موجود ایرانی کرد مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بڑھ رہی ہیں۔ ایرانی حکام ان گروہوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ کرد جماعتوں کی سرگرمیوں اور ان کے اڈوں کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

ایرانی حکام کا مؤقف اور حملے کے مبینہ اہداف

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اس کارروائی کو ممکنہ خطرات کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدام قرار دیا۔ ایرانی حکومت طویل عرصے سے مخالف کرد تنظیموں پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ ایران کے سرحدی علاقوں میں سرگرمیاں انجام دیتی ہیں اور ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

ایرانی حکام نے ان گروہوں پر اسرائیل کی حمایت حاصل ہونے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ تاہم موجودہ حملے کے حوالے سے اسرائیلی معاونت کے کسی مخصوص ثبوت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے اس الزام کو ایرانی حکومت کے مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے کوملہ کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن حملے کے نتائج کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کے باعث نقصان کی درست نوعیت اور شدت کا تعین کرنا ممکن نہیں۔ اسی طرح کوملہ کی جانب سے کسی ممکنہ جوابی کارروائی یا آئندہ اقدامات کے بارے میں بھی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

عراق کے کردستان ریجن کی اہمیت

عراق کا نیم خودمختار کردستان ریجن ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہاں ایرانی کرد سیاسی جماعتوں اور بعض مسلح تنظیموں کے کیمپوں کی موجودگی کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔ اس جغرافیائی صورت حال کے باعث یہ علاقہ ایران اور عراق کے درمیان سرحدی سلامتی سے متعلق معاملات میں اہمیت رکھتا ہے۔

ایرانی کرد جماعتوں کی موجودگی پر تہران اور عراقی کردستان کے حکام کے درمیان مختلف اوقات میں بات چیت اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان جماعتوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم موجودہ حملے سے متعلق فراہم کردہ معلومات میں یہ واضح نہیں کہ نشانہ بنائے گئے اڈے پر کس نوعیت کی سرگرمیاں جاری تھیں یا وہاں موجود افراد کے پاس اسلحہ تھا یا نہیں۔

کوملہ کے اہلکار علی رنجبر کی جانب سے ڈرون کے حاجی عمران سرحدی گزرگاہ کی سمت سے آنے کا بیان حملے کے راستے سے متعلق ان کا مؤقف ہے۔ اس تفصیل کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، جبکہ ایرانی حکام نے حملے کے بارے میں اپنے بیان میں اسے پیشگی کارروائی قرار دیا ہے۔

پجاک کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات

کوملہ کے اڈے پر حملے کی اطلاعات سے ایک روز قبل بھی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کرد مسلح تنظیم پجاک کے مسلح ونگ کو نشانہ بنانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاسدارانِ انقلاب اور پجاک کے درمیان جھڑپوں میں شدت دیکھی گئی ہے۔

پجاک اور کوملہ الگ تنظیمیں ہیں، اس لیے ان سے متعلق واقعات کو ایک ہی کارروائی یا مشترکہ منصوبے کا حصہ قرار دینے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔ تاہم ان واقعات کی زمانی قربت اس بات کو اہم بناتی ہے کہ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی صورت حال پر نظر رکھی جائے۔

اگر مسلح جھڑپیں بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات سرحدی آبادیوں، آمدورفت اور علاقائی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں متعلقہ حکام کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ اور سرحدی استحکام کے لیے اقدامات کریں۔

مزید تفصیلات کا انتظار

کوملہ کے اڈے پر مبینہ ڈرون حملے کے بعد اہم سوالات اب بھی جواب طلب ہیں، جن میں حملے سے ہونے والا نقصان، ممکنہ جانی نقصان اور مستقبل میں کشیدگی کے بڑھنے کے امکانات شامل ہیں۔ فی الحال ایرانی سرکاری میڈیا نے حملے کی کامیابی اور عسکری نقصان کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کوملہ کے نمائندے نے حملے کے وقت اور ڈرون کے مبینہ راستے سے متعلق معلومات دی ہیں۔

واقعے کے تمام پہلوؤں کی تصدیق کے لیے متعلقہ فریقوں کے مزید بیانات اور آزادانہ معلومات ضروری ہوں گی۔ اس مرحلے پر حملے کے نتائج یا کسی ممکنہ جوابی کارروائی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: حملے اور کوملہ کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچنے سے متعلق اطلاعات ایرانی ذرائع ابلاغ سے منسوب ہیں۔ کوملہ کے نمائندے نے حملے کے وقت اور ڈرون کے مبینہ راستے کی تفصیلات دی ہیں۔ حملے کے نتائج، جانی نقصان اور اسرائیلی حمایت سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

ماخذ: مہر، ایرانی سرکاری میڈیا، کوملہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے اہلکار علی رنجبر