

منصور احمد، 25 اکتوبر 2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء
پاکستان میں گندم اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر وفاقی حکومت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکام کو گندم کی فراہمی بڑھانے اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر کے اسی عرصے کے مقابلے میں رواں ہفتے آٹے کی قیمت میں 36.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی اوسط قیمت 2,976 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسی عرصے میں 20 کلو آٹے کا تھیلا اوسطاً 2,180 روپے میں دستیاب تھا۔ اس طرح ایک سال کے دوران اس کی قیمت میں تقریباً 796 روپے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بھی آٹے کی قیمت ایک فیصد بڑھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی غذائی ضرورت کی اس شے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
شہری علاقوں میں آٹے کی قیمتیں مزید تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3,412 روپے، اسلام آباد میں 3,333 روپے اور لاہور میں زیادہ سے زیادہ 3,133 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ مختلف شہروں میں قیمتوں کا فرق صارفین کے لیے اخراجات کے بوجھ کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اجلاس، قیمتوں کا جائزہ
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں اشیائے ضروریہ کے ذخائر، قیمتوں اور فراہمی کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے بنیادی استعمال کی اشیا کی دستیابی اور ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے موجود ذخائر کے بارے میں بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کے ذخائر ضرورت کے مطابق موجود ہیں۔ حکام کے مطابق مقامی اور درآمد شدہ گندم کا مجموعی ذخیرہ اگلی فصل آنے تک ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
اس کے باوجود اسحاق ڈار نے گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مارکیٹ میں گندم کی فراہمی بڑھانے سمیت ضروری اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کی توجہ اس بات پر ہے کہ دستیاب ذخائر کے باوجود قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ نہ ہو اور صارفین کو آٹا مناسب نرخوں پر دستیاب رہے۔
ذخائر موجود، پھر قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
گندم کے ذخائر ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہونے کی اطلاع کے باوجود آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس صورتِ حال میں گندم کی دستیابی کے ساتھ اس کی ترسیل، منڈیوں میں فراہمی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور آٹے کی تیاری و تقسیم کے اخراجات کا جائزہ لینا بھی اہم ہے۔
اگر گندم دستیاب ہو لیکن اسے مناسب مقدار میں مارکیٹ تک نہ پہنچایا جائے تو مقامی سطح پر قیمتوں میں دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اسی طرح مختلف علاقوں میں طلب، ترسیلی اخراجات اور فروخت کے نظام میں فرق کے باعث صارفین کو ایک ہی وزن کے آٹے کے تھیلے کے لیے مختلف قیمتیں ادا کرنا پڑ سکتی ہیں۔
تاہم فراہم کردہ معلومات میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی کسی ایک مخصوص وجہ کی حتمی نشاندہی نہیں کی گئی۔ اس لیے قیمتوں میں اضافے کو صرف ذخیرہ اندوزی یا کسی ایک عنصر سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے لیے متعلقہ منڈیوں، سپلائی چین اور حکومتی نگرانی کے اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔
کراچی میں آٹا سب سے مہنگا، گھریلو بجٹ پر دباؤ
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 3,412 روپے ہے، جو اسلام آباد اور لاہور میں بتائی گئی قیمتوں سے زیادہ ہے۔ آٹا پاکستان میں بیشتر گھرانوں کی روزمرہ خوراک کا بنیادی حصہ ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہِ راست گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔
کم اور درمیانی آمدن والے خاندانوں کے لیے آٹے سمیت بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیگر ضروری اخراجات کے لیے دستیاب رقم محدود کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں صارفین کو خوراک کے اخراجات اور بجلی، گیس، رہائش، تعلیم اور علاج جیسے دوسرے لازمی اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہتے۔ نان، روٹی اور دیگر آٹے سے تیار ہونے والی اشیا کی لاگت پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے، اگرچہ ان مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا انحصار دیگر اخراجات اور مقامی حالات پر بھی ہوتا ہے۔
حکومت کے لیے اگلا مرحلہ
وفاقی حکومت کی جانب سے گندم کی فراہمی بڑھانے کی ہدایت کے بعد اہم سوال یہ ہوگا کہ متعلقہ ادارے اس پر کس طرح عمل درآمد کرتے ہیں۔ اس میں گندم کی منڈیوں تک بروقت ترسیل، صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ، قیمتوں کی نگرانی اور صارفین کو مناسب نرخوں پر آٹے کی دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
اگر گندم کے ذخائر واقعی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں تو حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ دستیابی اور بازار میں فروخت ہونے والی قیمتوں کے درمیان فرق کی وجوہات کا تعین کرے۔ مؤثر نگرانی اور بروقت فراہمی سے قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے نتائج کا اندازہ آئندہ ہفتوں کے نرخوں اور مارکیٹ میں دستیابی سے ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: آٹے کی قیمتوں اور سالانہ اضافے کے اعداد و شمار پاکستان ادارۂ شماریات سے منسوب فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ حکومت کے اجلاس میں گندم کے ذخائر کو اگلی فصل تک ضروریات کے لیے کافی قرار دیا گیا، لیکن قیمتوں میں اضافے کی مخصوص وجوہات کی تفصیلی سرکاری وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔
ماخذ: پاکستان ادارۂ شماریات، وفاقی حکومت، کابینہ کمیٹی برائے اشیائے ضروریہ