سعودی پائپ لائن پر ڈرون حملے کا معاملہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حملے کے پیچھے تہران کے ملوث ہونے کا دعویٰ

محمود احمد, September 12,2026

ڈبلن (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

آئرلینڈ کے سرکاری دورے پر موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی تزویراتی ایسٹ۔ویسٹ خام تیل کی پائپ لائن پر ہونے والے حالیہ تباہ کن ڈرون حملے کے پیچھے ممکنہ طور پر ایران کا ہاتھ ہے۔

آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ تہران کو سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار مانتے ہیں، تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پختہ خیال ہے کہ ان حملوں کے پیچھے وہی ہیں اور غالباً وہی اس کارروائی کے ذمہ دار ہیں۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل سعودی وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ سعودی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے عسکری ڈرونز کی پروازیں عراق کے اندرونی علاقوں سے روانہ کی گئی تھیں۔

ڈبلن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ دنوں کے سیاسی اور بین الاقوامی مؤقف کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ جنگی صورتحال نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے اختتام کے بعد مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توانائی کی عالمی منڈی سے متعلق اپنے عزم کو دہراتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خطے میں جاری اس جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اور واضح کمی واقع ہو جائے گی۔

دفاعی و تجارتی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس بیان نے ایک طرف جہاں سعودی عرب اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، وہاں عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

امریکہ کی جنگ پسندی عالمی طاقت اور اقتصادی جغرافیے کی مشرق کی جانب منتقلی کا بہترین محرک بنی ہے: میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی

محمود احمد, September 10,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

ایران کے رہبرِ اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر عسکری مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے بین الاقوامی و علاقائی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی دائمی جنگ پسندی، بین الاقوامی طاقت کے توازن اور عالمی اقتصادی جغرافیے کی مغربی خطے سے مشرق کی جانب تیزی سے منتقلی کے لیے سب سے بہترین اور طاقتور محرک ثابت ہوئی ہے۔

ایرانی افواج کے سابق کمانڈر انچیف اور رہبرِ اعلیٰ کے دفاعی امور کے خصوصی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے عالمی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ایک پیغام میں مغرب اور امریکہ کی جیو پولیٹیکل پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ دشمن کی جانب سے محض فتح کا مصنوعی تاثر دینے کی تمام تر کوششیں، درحقیقت اس کی عملی شکست کی واضح علامت ہیں اور یہ بین الاقوامی طاقت، توازن اور عالمی سلامتی کے ایک جدید کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے ناگزیر وجود کو تسلیم کرنے کے بالکل مترادف ہے۔

ایرانی حکام اور عسکری کمانڈروں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایران کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف حالیہ مسلط کردہ جنگ و عسکری مہم جوئی میں امریکہ اور اسرائیل کو تاریخی اور واضح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایرانی انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ مغرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کا بنیادی اور حتمی مقصد اسلامک ریپبلک آف ایران کا کامل خاتمہ تھا، تاہم ایرانی قوم کی مزاحمت اور عسکری حکمتِ عملی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تمام تر اہداف کو خاک میں ملا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منظر نامے پر مشرق کا اثر و رسوخ اور کثیر قطبی دنیا کا قیام پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔

جزیرہ لارک پر امریکی حملوں کے بعد تہران کا اردن اور امارات میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت جواب دینے کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

تہران/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے خطے کے تمام ممالک کو سخت اور واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کے لیے ان کی سرزمین استعمال کی گئی تو تہران حکومت ایسے حملوں کا باعث بننے والے تمام ’ذرائع‘ کو بلا جھجھک نشانہ بنائے گی۔

ایرانی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقائی اور پڑوسی ممالک اپنے سابقہ علانیہ مؤقف اور وعدوں کے باوجود امریکہ کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے اپنی حدود اور سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران اپنے تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے، تاہم وہ اپنے خلاف ہونے والی ’کسی بھی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا‘ اور ایسے اقدامات کا پہلے سے ’مزید سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

ایرانی عسکری حکام کے مطابق گزشتہ رات خطے میں کی جانے والی جوابی عسکری کارروائیاں بھی اسی واضح پالیسی کا تسلسل اور ردِعمل تھیں۔

یہ تند و تیز بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اتوار کی شب خلیج فارس میں واقع تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ایرانی جزیرے ‘لارک’ پر فضائی حملے کیے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس امریکی کارروائی کے ردِعمل میں اس نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب، ان جوابی حملوں پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ان تمام ایرانی حملوں کو ’بغیر جواب‘ دیے ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی پاداش میں ایران کو امریکہ کی جانب سے انتہائی ‘سخت اور موثر جواب’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا شدید اور حتمی جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اردن میں قائم اپنے عسکری اڈوں پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملوں کا انتہائی ’سخت اور موثر جواب‘ دے گا۔ خبر رساں ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ہنگامی ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایرانی عسکری اقدام پر واشنگٹن چپ نہیں بیٹھے گا اور اس کا جواب بھرپور کارروائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

امریکی صدر کا یہ تند و تیز بیان پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے اس باضابطہ دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی عسکری حملوں کے ردِعمل میں ایران نے اردن میں واقع دو اہم امریکی ایئر بیسز—’شاہ حسین’ اور ‘الازرق’—کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں وہاں موجود امریکی فوج کے ‘تکنیکی و دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان’ پہنچا ہے۔

انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ رات ایرانی میزائل حملے کے دوران ایک میزائل کو دانستہ طور پر گزرنے دیا کیونکہ وہ کسی امریکی ہدف کی سمت نہیں تھا اور اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا، جبکہ دیگر تمام ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب اردنی حکومت نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کی اپنی فضائی دفاعی فورسز نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنایا۔

عسکری کشیدگی اور سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر نے سفارتی حل کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکام واقعی ہم سے مذاکرات اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا کہ کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر آئندہ کے لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

اس کے فوراً بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک مفصل پوسٹ میں امریکی صدر نے ایرانی حکومت کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’ایران باضابطہ طور پر ایک بالکل ناکام ریاست بن چکا ہے اور اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے! اس کے پاس اب نہ کوئی فعال بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، اور نہ ہی کوئی معاشی قوت رکھنے والی کرنسی۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہے۔ ملک میں مہنگائی 300 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی موجودہ قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے جو ملک کی مناسب نمائندگی کی صلاحیت کھو چکی ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر الزام عائد کیا کہ ’تہران حکومت کے پاس اب صرف امریکہ سے آنے والی فیک نیوز، اپنے ہی معصوم مظاہرین کو قتل کرنے کی سفاکانہ آمادگی (جس میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت عالمی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے!)، اور بے بنیاد عسکری دعووں کی ایک لمبی فہرست ہی باقی رہ گئی ہے۔‘

ایران کا جزیرہ لارک پر حملے کے بعد شدید ردِعمل: امریکی و اسرائیلی اقدامات کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دینے کا عزم

محمود احمد, August 31,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی پارلیمان کی اہم اور سٹریٹجک ‘قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی’ کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سٹریٹجک جزیرہ لارک پر ہونے والے حالیہ حملے پر انتہائی سخت اور تند و تیز ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس جارحانہ کارروائی کا تہران کی جانب سے حتمی اور لازمی جواب دیا جائے گا۔

ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں طاقتور لہجہ اپناتے ہوئے لکھا کہ “ہماری دفاعی قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے” کی دشمنوں کی کوئی بھی نئی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں اور معاشی و جیو پولیٹیکل نقصان کی قیمت کو مزید شدید اور بھاری کر دے گی۔ انہوں نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامی ایران اس جارحیت کا انتہائی “تباہ کن، تکلیف دہ اور عبرت ناک سبق آموز” جواب فراہم کرے گا۔

ایرانی رہنما کی جانب سے یہ سخت بیانات ایک ایسے کشیدہ وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے خلیجِ فارس میں واقع جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں اپنے متعدد عسکری اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حملے کے منصوبہ سازوں اور حملہ آوروں کے خلاف فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

امریکی بحری ناکہ بندی سے ایران کی درآمدات شدید متاثر، پیٹرول کی قلت کے باعث کوٹہ میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا قوی امکان

محمود احمد, August 29,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ سخت اور بین الاقوامی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی بین الاقوامی تجارت اور ضروری سامان کی درآمدات کا عمل شدید ترین مشکلات اور رکاوٹوں کا شکار ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ایرانی دارالحکومت تہران سمیت ملک بھر میں ایندھن، بالخصوص پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کی اہم اقتصادی کمیٹی کے سینئر رکن جعفر قادری نے ملک کو درپیش اس سنگین معاشی صورتحال، ایندھن کے بحران اور بحری ناکہ بندی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایران اس وقت سنگین اقتصادی دباؤ کی زد میں ہے اور حکومت کے لیے پرانے نرخوں اور طریقہ کار پر پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے رکن جعفر قادری کے فراہم کردہ اہم اور سنسنی خیز اعداد و شمار کے مطابق، ایران سالانہ بنیادوں پر جو مجموعی طور پر تقریباً 210 ملین (21 کروڑ) ٹن مختلف سامان و خام مال درآمد کرتا ہے، اس کی کل درآمدات کا تقریباً 83 فیصد حصہ جنوبی بحیرۂ چین اور متعلقہ بین الاقوامی بحری شاہراہوں کے راستے ایرانی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ تاہم، امریکی بحری جہازوں اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے اس سب سے اہم اور بنیادی تجارتی راستے میں شدید ترین رکاوٹیں کھڑی ہو چکی ہیں، جس کے باعث نہ صرف تیل کے ٹینکرز کی آمد و رفت منقطع ہوئی ہے بلکہ ایندھن کے دیگر بحری جہاز بھی ایرانی ساحلوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

جعفر قادری نے ملک کے اندرونی ایندھن کے اعداد و شمار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کو اس وقت یومیہ (روزانہ) کی بنیاد پر تقریباً 15 سے 20 ملین (ڈیڑھ سے دو کروڑ) لیٹر پیٹرول کے بدترین خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے معاشی حقیقت اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ بین الاقوامی بحران اور کرنسی کے دباؤ میں بیرونِ ملک سے محض ایک لیٹر پیٹرول درآمد کرنے پر ایرانی حکومت کو تقریباً 1 امریکی ڈالر کے برابر خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے، جو ملکی معیشت اور خزانوں پر ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔

ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ناکہ بندی، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی کمی اور موجودہ نازک ترین حالات میں ماضی کی طرح شہریوں کو بلا پابندی اور بے تحاشا سبسڈی والے نرخوں پر پیٹرول فراہم کرتے رہنا معاشی منطق کے تمام اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران کو مزید سنگین بنانے والی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سستے پیٹرول کا ایک بڑا اور اہم حصہ منظم سمگلنگ کے ذریعے سرحد پار دوسرے ممالک میں چلا جاتا ہے، جس سے ایرانی عوام کے حق پر ڈاکہ پڑ رہا ہے۔

جعفر قادری نے تہران حکومت اور ایرانی انتظامیہ کے متوقع سخت فیصلے کے بارے میں اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب پیٹرول کی ملکی طلب اور محدود دستیابی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اور سخت قسم کے کنٹرولنگ اقدامات نافذ کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان متوقع اور اضطراری اقدامات میں شہریوں کے لیے ایندھن کے ماہانہ کوٹے میں نمایاں کمی کرنا یا پیٹرول کی سرکاری قیمتوں میں ردوبدل اور اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اس بحرانی وقت میں حکومت کے لیے انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ وہ دستیاب محدود قومی وسائل کا مؤثر اور محتاط استعمال یقینی بنائے، ایندھن کی بارڈر سمگلنگ کو ہر قیمت پر روکے، اور صرف اندرونِ ملک اور ہنگامی ضروریات کو ترجیح دے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ‘آبنائے ہرمز کھلی ہے، امریکہ ایران کے خلاف بہت بڑی فتح کی جانب گامزن’

محمود احمد, August 26,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ تناؤ کے باوجود انتہائی اہم عالمی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے اور امریکی بحریہ نے کامیابی سے جہاز رانی کو بحال رکھا ہوا ہے۔ امریکی مبصر اور معروف سبسکرپشن سٹریمنگ نیٹ ورک ‘بلیز میڈیا’ کے بانی گلین بیک کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ‘گزشتہ رات ہم نے 22 تجارتی کشتیاں اور جہاز وہاں سے بحفاظت نکالے ہیں’۔ انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی پر کھل کر بات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کے خلاف اس جغرافیائی اور سیاسی معرکے میں امریکی بحریہ، برّی فوج اور امریکہ کی مضبوط معاشی طاقت نے انتہائی فیصلہ کن اور کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ ایک ‘بہت بڑی تاریخی فتح’ کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکہ نے وینزویلا کے بحران میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور بالکل اسی طرح ‘ایران کے معاملے میں بھی امریکہ کو بہت جلد حتمی کامیابی حاصل ہو جائے گی’۔

انٹرویو کے دوران جب امریکی صدر سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق وہ ‘حملوں یا واقعے میں بہت بری طرح زخمی ہوئے تھے، لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں’۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی سفارتی، دفاعی اور معاشی حلقوں میں شدید تحرک پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص تیل کی عالمی منڈیوں اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت سے متعلق امریکی پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایرانی قیادت سے متعلق امریکی صدر کا یہ نیا موقف آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا اچانک ماسکو کا اہم دورہ

محمود احمد, August 25,2026

واشنگٹن/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے روسی اعلیٰ حکام کے ساتھ انتہائی اہم اور اہم نوعیت کی ملاقاتوں کے لیے اچانک اور غیر متوقع طور پر ماسکو کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے “رائٹرز” کے مطابق امریکی انٹیلی جنس چیف کا یہ غیر معمولی دورہ ایک ایسے انتہائی حساس اور نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دوسری جانب روس اور ایران کے درمیان گہرے عسکری، دفاعی، معاشی اور سفارتی تعلقات پہلے سے قائم ہیں۔ یوکرینی انٹیلی جنس اور بین الاقوامی سفارتی ذرائع سے موصول ہونے والی تفصیلی رپورٹس کے مطابق روس اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے باہمی دفاعی نظام، ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عسکری تعاون کے تناظر میں اعلیٰ سطح کے امریکی حکام کا یہ غیر اعلانیہ دورہ عالمی منظر نامے پر کسی نئی اور غیر معمولی پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس اہم دورے اور سیکیورٹی تحرک کے حوالے سے ماسکو اور کرملین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کو کسی بھی قسم کی ناجائز عسکری معاونت کی خبریں درست نہیں ہیں، تاہم روسی حکومت نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران اور تنازع کو پرامن سفارتی راستے سے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے اور مدد فراہم کرنے کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے ترجمان نے جان ریٹکلف کے اس ہنگامی دورۂ ماسکو کی تفصیلات، ملاقاتوں کے ایجنڈے اور مقصد سے متعلق ذرائع ابلاغ کو کسی بھی قسم کا تبصرہ یا بیان دینے سے مکمل طور پر معذرت کی ہے۔ بین الاقوامی سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق نومبر 2021 میں سابق سی آئی اے چیف ولیم برنز کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی تاریخی ملاقات کے بعد کسی بھی امریکی انٹیلی جنس ادارے کے اعلیٰ ترین سربراہ کا ماسکو کا یہ پہلا بڑا، اہم اور اہم ترین دورہ تصور کیا جا رہا ہے جس سے خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی بمباری کے باوجود آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار ہے، واشنگٹن سے اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے: ایران کا سخت اعلان

محمود احمد, JULY 27,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بمباری کا سلسلہ روکے جانے کے باوجود، تہران خطے کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے حساس ترین سمندری شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ پر اپنا مکمل اور بلاشرکتِ غیرے کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ واشنگٹن انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی یا میز کے مذاکرات میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے۔

امریکی حملے اور تہران کا سخت مؤقف

حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے خوفناک فوجی تصادم اور امریکہ کی جانب سے ایران کے متعدد اہم اور حساس بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکایک بمباری کا سلسلہ روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ واشنگٹن کے اس اقدام کا مقصد خطے کو ایک مکمل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں جانے سے بچانا اور سفارتی راستے تلاش کرنا بتایا گیا تھا۔ تاہم، تہران کی جانب سے اس امریکی پیش رفت پر انتہائی تند و تیز اور سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ “امریکہ کا یہ وہم ہے کہ وہ بمباری شروع کر کے اپنی مرضی سے اسے روک سکتا ہے اور پھر مذاکرات کا ڈرامہ رچا سکتا ہے۔ ایران پر مسلط کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہماری فورسز ہمہ وقت تیار ہیں اور امریکہ کی اس ناگہانی کارروائی نے سفارت کاری کے تمام بقایا امکانات کو ختم کر دیا ہے۔”

آبنائے ہرمز کی عالمی و اقتصادی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم ترین سمندری راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کا سختی سے اعادہ کرنے اور امریکی بحری جہازوں و خلیجی تیل بردار جہازوں کو کسی بھی وقت کارروائی کا نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید ہاہاکار مچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ یا بلاکبندی کا سامنا بھی ہوتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، جس کا براہِ راست اثر ایشیائی اور یورپی معیشتوں پر پڑے گا۔

مذاکرات کی منسوخی اور سفارتی تعطل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف جہاں سخت پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں تو دوسری جانب ایک نئے معاہدے یا مذاکرات کی تجویز بھی پیش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم، ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی جانب سے اس پر قطعی اور حتمی انکار آ چکا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر وعدہ خلافی اور بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ:

“امریکہ پہلے خود حملے کرتا ہے، ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے اور پھر مذاکرات کی پیشکش کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ ہم ایسے دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں واشنگٹن سے کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ اب بات چیت کا باب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔”

عالمی برادری اور علاقائی صورتِ حال

ایران کے اس حتمی اور سخت موقف نے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ ، یورپی یونین اور ایشیائی ممالک کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تمام بڑی عالمی طاقتیں دوٹوک انداز میں زور دے رہی ہیں کہ تہران اور واشنگٹن دونوں تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ عالمی اقتصادی نظام اور توانائی کے سپلائی سلسلے میں کوئی بڑا بحران جنم نہ لے سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت اور جارحانہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اپنے دفاعی نظام کو مضبوط تر سمجھتے ہوئے امریکی دباؤ کے سامنے قطعی طور پر جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری بیڑے اور ایرانی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے صورتِ حال مزید باریک اور حساس موڑ اختیار کر سکتی ہے۔