چین سے سیلاب سے متعلق معلومات موصول ہو رہی ہیں: نیپالی وزیر خارجہ شیشیر خانال

Spread the love

منصور احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے تصدیق کی ہے کہ نیپال اور چین کے درمیان حالیہ تباہ کن سیلابی صورتحال سے متعلق قریبی رابطہ، تبادلہ خیال اور اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ چینی حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں اور سرحد پار صورتحال کے حوالے سے ضروری معلومات اور ڈیٹا مسلسل موصول ہو رہا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے اس سوال پر کہ بحران کے ابتدائی لمحات میں چین کی طرف سے بروقت معلومات اور الرٹ کیوں فراہم نہیں کیا گیا، وزیر خارجہ شیشیر خانال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی نوعیت انتہائی اچانک اور پیچیدہ تھی، جس کے باعث ممکن ہے کہ خود چینی حکام کے پاس بھی ابتدائی مرحلے میں مکمل، واضح اور مستند معلومات فوری طور پر موجود نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے مابین رابطے مکمل طور پر بحال ہیں اور ضروری تفصیلات و اپ ڈیٹس چین کی جانب سے باقاعدگی سے موصول ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق، نیپال اس تباہ کن واقعہ کے فوری بعد سے مسلسل چینی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک دوسرے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ شیشیر خانال نے مزید بتایا کہ چینی حکام نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کی جگہ اور اس کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے پانی کی سطح کی جدید آلات کے ذریعے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، بلکہ ممکنہ خطرات، پانی کے بہاؤ اور کسی بھی نئے خطرے کے بارے میں پیشگی معلومات نیپال کو فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معلومات کی اس بروقت فراہمی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کسی نئی ہنگامی صورتحال یا دوبارہ سیلابی ریلے کا خطرہ پیدا ہو، تو نیپالی انتظامیہ کو بروقت حفاظتی اور دفاعی اقدامات اٹھانے میں مدد مل سکے اور عام شہریوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔