ہندوتوا حکومت اسلاموفوبیا اور اقلیتوں پر مظالم میں ملوث؛ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوششیں علاقائی امن کے لیے خطرہ

Spread the love

محمود احمد, JULY 24,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل اور قرارداد 2788 کے حوالے سے ہونے والے مباحثے کے دوران پاکستانی مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے بھارتی وفد کے بے بنیاد الزامات اور غلط بیانی کا سخت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔

حقِ جواب کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ صائمہ سلیم نے کہا کہ یہ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ بھارت امن کا درس دے رہا ہے جبکہ وہ خود بین الاقوامی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں، پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیت اور اپنے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں شدید جبر و استبداد کا مرتکب ہو رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا نام نہاد ‘اٹوٹ انگ’ یا داخلی معاملہ ہرگز نہیں ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کوئی وقت کی حد نہیں ہوتی۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے شہری تمام بنیادی حقوق اور آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آوازوں کو دبایا جاتا ہے اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

صائمہ سلیم نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بھارتی یکطرفہ کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی بنیاد ہے اور اسے جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری کے سامنے بھارتی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 1 لاکھ کے قریب قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو بھارتی مالی و عسکری معاونت کا حوالہ دینے کے ساتھ ساتھ کلبھوشن یادیو اور شمالی امریکہ میں بھارتی ایجنٹوں کے غیر ملکی قتل کے منصوبوں کو عالمی سطح پر پھیلتی بھارتی دہشت گردی کا ثبوت قرار دیا۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کے تحت بھارت میں 20 کروڑ سے زائد مسلمان، مسیحی، دلت اور سکھ شدید ظلم و ستم کا شکار ہیں، جس نے نام نہاد ‘سب سے بڑی جمہوریت’ کے دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے ہر قسم کی اشتعال انگیزی کے باوجود ہمیشہ تحمل، مذاکرات اور پرامن حل کو ترجیح دی ہے اور بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔