

منصور احمد, September 01,2026
بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پانی انسانی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اسے کبھی بھی ہتھیار، دباؤ یا سیاسی مفادات کے حصول کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
اگرچہ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران براہِ راست انڈیا کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور عدم پاسداری کی کوششوں کی طرف تھا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی ہمارے پورے خطے میں انسانی زندگی اور بقا کی بنیاد ہے، جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زراعت و زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق تمام تر معاہدے سنجیدہ، باہم طے شدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں، یہ کوئی ایسے معمولی سیاسی معاملات نہیں ہیں جنہیں کوئی بھی ملک اپنی مرضی یا پسند ناپسند کے مطابق نظر انداز کر دے۔
دہشت گردی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ہمیشہ کی طرح فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی کے ذہن میں کوئی ابہام یا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، تب تک خطے میں پائیدار اور حقیقی امن ہماری پہنچ سے دور ہی رہے گا۔









