پانی کو کبھی عسکری یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

منصور احمد, September 01,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پانی انسانی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اسے کبھی بھی ہتھیار، دباؤ یا سیاسی مفادات کے حصول کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اگرچہ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران براہِ راست انڈیا کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور عدم پاسداری کی کوششوں کی طرف تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی ہمارے پورے خطے میں انسانی زندگی اور بقا کی بنیاد ہے، جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زراعت و زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق تمام تر معاہدے سنجیدہ، باہم طے شدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں، یہ کوئی ایسے معمولی سیاسی معاملات نہیں ہیں جنہیں کوئی بھی ملک اپنی مرضی یا پسند ناپسند کے مطابق نظر انداز کر دے۔

دہشت گردی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ہمیشہ کی طرح فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی کے ذہن میں کوئی ابہام یا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، تب تک خطے میں پائیدار اور حقیقی امن ہماری پہنچ سے دور ہی رہے گا۔

سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی و قانونی مؤقف کی تاریخی فتح ہے: ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی، قانونی اور سفارتی مؤقف کی ایک بہت بڑی تاریخی کامیابی ہے، جس سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا غیر مؤثر کرنے کی تمام تر کوششوں کو عالمی سطح پر واضح اور حتمی قانونی شکست ہوئی ہے۔

پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک اہم باضابطہ بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں بالکل واضح کر دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل، منسوخ یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر فعال و مؤثر ہے اور اس کی پاسداری پاکستان اور بھارت دونوں ممالک پر یکساں طور پر قانونی و بین الاقوامی لازمی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے خودمختاری، مبینہ معاہداتی خلاف ورزی، دہشت گردی اور دیگر من گھڑت بنیادوں پر پیش کیے جانے والے تمام دلائل عالمی ثالثی عدالت کے سامنے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ عدالت کے اس تاریخی فیصلے نے دنیا بھر پر ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر اپنے طور پر طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے عبوری اقدامات پاکستان کے موقف کی ایک اور اہم ترین تائید ہیں۔ عدالت نے رتلے پن بجلی منصوبے کی مخصوص متنازع تعمیراتی سرگرمیوں پر باقاعدہ پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے قانونی و آبی حقوق پر بلا کم و کاست ثابت قدم رہا اور عالمی عدالت نے ہمارے موقف کی مکمل توثیق کر دی ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ یہ فیصلہ صرف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کی فتح ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی تمام بھارتی کوششوں کو شدید ترین قانونی دھچکا لگا ہے اور پاکستان سفارتی محاذ پر مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی روایتی ہٹ دھرمی ترک کر کے عالمی قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور عدالت کے فیصلوں کا احترام کرے۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی التواء اور پانی کا بطور ہتھیار استعمال پاکستان کے لیے نیا سیکیورٹی چیلنج: وفاقی وزیر احسن اقبال

محمود احمد, August 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر تاریخی سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھ کر جدید تاریخ میں پہلی بار پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے، جو پاکستان کی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک سنگین اور نیا چیلنج بن چکا ہے۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیائی اقدامات فروا امین سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ 70 سال پرانا یہ اہم معاہدہ دونوں ممالک کے مابین سخت ترین جنگوں اور کشیدگی کے باوجود ہمیشہ ناقابلِ دست اندازی سمجھا جاتا رہا، تاہم موجودہ بھارتی حکومت کا یکطرفہ اقدام خطے کے امن اور واٹر سیکیورٹی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام سے بھارت کے پاس یہ صلاحیت آ جاتی ہے کہ وہ فصلوں کی اشد ضرورت کے وقت پاکستان کا پانی روک لے یا پھر غیر متوقع طور پر سیلابی پانی چھوڑ کر تباہی مچائے، جس سے مشترکہ آبی وسائل کو دباؤ کا ہتھکنڈہ بنایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے دوہری حکمتِ عملی پر پوری قوت سے کام کر رہا ہے۔ پہلی سطح پر ملک کے اندر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے سٹریٹجک بفر کا قیام تیز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں میں کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا، لیکن اب دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پر کام کی رفتار کو تیز کر کے تقریباً 60 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے تا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بالائی علاقوں سے پانی کے ممکنہ اخراج کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ دوسری سطح پر، پاکستان اس تنازع کو کسی عسکری تصادم یا جنگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی اور سفارتی ذرائع کا مؤثر استعمال کر رہا ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا کو اس وقت جنگوں کے بجائے غربت، بیماریوں کے خاتمے، اور اپنی نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم و روزگار دینے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے حکومتِ پاکستان کے ‘اڑان پاکستان’ فریم ورک اور 5E حکمتِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیو اکنامکس کو ملکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 7 ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، اور معاشی استحکام کی بحالی کے بعد امریکی کمپنیوں، ایکسپورٹ امپورٹ بنک، اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی اور صنعتی تعاون کسی صورت بھی چین کے ساتھ پاکستان کے آئرن کلیڈ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوگا۔ چین نے توانائی بحران کے وقت سی پیک کے ذریعے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اور اب سی پیک 2.0 کے تحت بی ٹو بی ماڈل میں گرین انرجی، زراعت، ٹیکنالوجی اور کان کنی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے پاکستان کی نئی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سینٹرز اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی اصلاحات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں اضافی توانائی اور باصلاحیت نوجوان آبادی کی صورت میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے پرکشش ماحول موجود ہے، لیکن پانی کے وسائل کا تحفظ ہی ملکی بقا اور غذائی تحفظ کی اصل ضامن ہے۔ پاکستان دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ مساوی اور متوازن تعلقات قائم رکھتے ہوئے اپنی معاشی و آبی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا۔

پانی کی نگرانی اور سرحد پار آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ناگزیر؛ فلو مینیپولیشن ایڈوائزری سسٹم قائم کرنے کی تجویز

کاشف عباسی , JULY 25,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

اے آئی جیو نیویگیٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاصم جاوید نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کے بہاؤ پر بھارت کے اقدامات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر توجہ برقرار رکھی جائے، کیونکہ معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزیاں سنگین تشویش کا معاملہ ہیں۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ثالثی کی مستقل عدالت کے فیصلے کے بعد سفارتی حمایت حاصل کرنی چاہیے، اپنی قانونی و تکنیکی پوزیشن کو وسیع پیمانے پر اجاگر کرنا چاہیے، معاہدے کی مبینہ بھارتی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنا چاہیے اور اپنا حق ثابت کرنا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کا ممکنہ کردار

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کے آبی تحفظ کو مضبوط بنانے میں دریاؤں کی نگرانی، پانی کی دستیابی کی پیش گوئی اور شواہد پر مبنی پانی کے انتظام کی حمایت کرتے ہوئے سرحد پار پانی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

عاصم جاوید نے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ایک “فلو مینیپولیشن ایڈوائزری سسٹم” تیار کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ خاص طور پر پاکستان میں آبی بہاؤ کو متاثر کرنے والی اپ سٹریم مداخلتوں کے پیشِ نظر اہم مقامات پر پانی کی دستیابی کی نگرانی اور جائزہ لیا جا سکے۔ ان کے مطابق جدید ترین اے آئی پر مبنی نظام متعلقہ حکام کو ریئل ٹائم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، دریا کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ کا اندازہ لگانے اور پانی کی تقسیم و ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

سیلابی پانی کے بہتر استعمال کی تجویز

سیلابی پانی کو بہتر طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے عاصم جاوید نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب کے موسموں میں، بالخصوص دریائے چناب، راوی اور ستلج کے کنارے والے علاقوں میں، پانی ذخیرہ کرنے کے نظام، زیرِ زمین پانی کے ریچارج اور سطح برقرار رکھنے والے تالابوں کی تعمیر کے ذریعے اضافی پانی کو استعمال میں لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے زیادہ تر میدانی علاقوں پر مشتمل ہیں جہاں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ممکن نہیں، جس سے پانی کے مرکزی انتظام کے حل کو زیادہ عملی اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

عاصم جاوید نے بتایا کہ اے آئی جیو نیویگیٹرز مصنوعی ذہانت، جیو اے آئی، ریموٹ سینسنگ، جیوگرافک انفارمیشن سسٹمز (جی آئی ایس) اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلنگ کو مربوط کرتے ہوئے پاکستان کی دریا کے بہاؤ کی نگرانی، اپ سٹریم میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا پتہ لگانے، پانی کی قلت یا اچانک اخراج کی پیش گوئی کرنے اور آبی ذخائر کے نظام کو بہتر بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجیز اپنانے سے پاکستان کو زیادہ لچکدار اور ڈیٹا پر مبنی واٹر مینجمنٹ فریم ورک بنانے میں مدد ملے گی، جس سے ملک ابھرتے ہوئے علاقائی آبی چیلنجوں کا مؤثر جواب دینے کے قابل ہو سکے گا

ہندوتوا حکومت اسلاموفوبیا اور اقلیتوں پر مظالم میں ملوث؛ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوششیں علاقائی امن کے لیے خطرہ

محمود احمد, JULY 24,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل اور قرارداد 2788 کے حوالے سے ہونے والے مباحثے کے دوران پاکستانی مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے بھارتی وفد کے بے بنیاد الزامات اور غلط بیانی کا سخت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔

حقِ جواب کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ صائمہ سلیم نے کہا کہ یہ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ بھارت امن کا درس دے رہا ہے جبکہ وہ خود بین الاقوامی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں، پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیت اور اپنے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں شدید جبر و استبداد کا مرتکب ہو رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا نام نہاد ‘اٹوٹ انگ’ یا داخلی معاملہ ہرگز نہیں ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کوئی وقت کی حد نہیں ہوتی۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے شہری تمام بنیادی حقوق اور آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آوازوں کو دبایا جاتا ہے اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

صائمہ سلیم نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بھارتی یکطرفہ کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی بنیاد ہے اور اسے جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری کے سامنے بھارتی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 1 لاکھ کے قریب قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو بھارتی مالی و عسکری معاونت کا حوالہ دینے کے ساتھ ساتھ کلبھوشن یادیو اور شمالی امریکہ میں بھارتی ایجنٹوں کے غیر ملکی قتل کے منصوبوں کو عالمی سطح پر پھیلتی بھارتی دہشت گردی کا ثبوت قرار دیا۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کے تحت بھارت میں 20 کروڑ سے زائد مسلمان، مسیحی، دلت اور سکھ شدید ظلم و ستم کا شکار ہیں، جس نے نام نہاد ‘سب سے بڑی جمہوریت’ کے دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے ہر قسم کی اشتعال انگیزی کے باوجود ہمیشہ تحمل، مذاکرات اور پرامن حل کو ترجیح دی ہے اور بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کی کوششوں کی سخت مخالفت؛ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب

محمود احمد, JULY 22,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے قومی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قدرتی وسائل کو تنازعات، جبر اور استحصال کے بجائے پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا وسیلہ بننا چاہیے۔

اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت کی جانب عالمی منتقلی کے باعث اہم معدنیات پر مقابلہ ایک نئی جیو پولیٹیکل حقیقت بن چکا ہے۔ کمزور طرزِ حکمرانی، قدرتی وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار اور بیرونی مداخلت دنیا کے مختلف خطوں میں بدامنی اور انسانی بحرانوں کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے جمہوریہ کانگو اور افریقہ کی مثالیں دیتے ہوئے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سپلائی چینز میں محض خام مال کے فراہم کنندہ کے بجائے ویلیو ایڈیشن اور منصفانہ آمدنی کا برابر کا شریک بنایا جائے اور بین الاقوامی قانون کے تحت قدرتی وسائل پر اقوام کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے مشترکہ آبی وسائل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے ) کو غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوششوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ رویہ 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور روزگار کے لیے مستقیم خطرہ ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اگست 2025ء میں ثالثی عدالت کے فیصلے نے واضح کر دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر فعال، قانونی اور دونوں ممالک پر نافذ العمل ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کے متنازع پس منظر میں بھارت کی جانب سے پانی کو بطورِ سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے استحصال اور انہیں ہتھیار بنانے کے اقدامات پر کڑی نظر رکھے اور پرامن حل کے لیے پیشگی سفارت کاری کا مؤثر استعمال کرے۔