پانی کی نگرانی اور سرحد پار آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ناگزیر؛ فلو مینیپولیشن ایڈوائزری سسٹم قائم کرنے کی تجویز

کاشف عباسی , JULY 25,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

اے آئی جیو نیویگیٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاصم جاوید نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کے بہاؤ پر بھارت کے اقدامات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر توجہ برقرار رکھی جائے، کیونکہ معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزیاں سنگین تشویش کا معاملہ ہیں۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ثالثی کی مستقل عدالت کے فیصلے کے بعد سفارتی حمایت حاصل کرنی چاہیے، اپنی قانونی و تکنیکی پوزیشن کو وسیع پیمانے پر اجاگر کرنا چاہیے، معاہدے کی مبینہ بھارتی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنا چاہیے اور اپنا حق ثابت کرنا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کا ممکنہ کردار

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کے آبی تحفظ کو مضبوط بنانے میں دریاؤں کی نگرانی، پانی کی دستیابی کی پیش گوئی اور شواہد پر مبنی پانی کے انتظام کی حمایت کرتے ہوئے سرحد پار پانی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

عاصم جاوید نے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ایک “فلو مینیپولیشن ایڈوائزری سسٹم” تیار کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ خاص طور پر پاکستان میں آبی بہاؤ کو متاثر کرنے والی اپ سٹریم مداخلتوں کے پیشِ نظر اہم مقامات پر پانی کی دستیابی کی نگرانی اور جائزہ لیا جا سکے۔ ان کے مطابق جدید ترین اے آئی پر مبنی نظام متعلقہ حکام کو ریئل ٹائم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، دریا کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ کا اندازہ لگانے اور پانی کی تقسیم و ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

سیلابی پانی کے بہتر استعمال کی تجویز

سیلابی پانی کو بہتر طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے عاصم جاوید نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب کے موسموں میں، بالخصوص دریائے چناب، راوی اور ستلج کے کنارے والے علاقوں میں، پانی ذخیرہ کرنے کے نظام، زیرِ زمین پانی کے ریچارج اور سطح برقرار رکھنے والے تالابوں کی تعمیر کے ذریعے اضافی پانی کو استعمال میں لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے زیادہ تر میدانی علاقوں پر مشتمل ہیں جہاں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ممکن نہیں، جس سے پانی کے مرکزی انتظام کے حل کو زیادہ عملی اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

عاصم جاوید نے بتایا کہ اے آئی جیو نیویگیٹرز مصنوعی ذہانت، جیو اے آئی، ریموٹ سینسنگ، جیوگرافک انفارمیشن سسٹمز (جی آئی ایس) اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلنگ کو مربوط کرتے ہوئے پاکستان کی دریا کے بہاؤ کی نگرانی، اپ سٹریم میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا پتہ لگانے، پانی کی قلت یا اچانک اخراج کی پیش گوئی کرنے اور آبی ذخائر کے نظام کو بہتر بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجیز اپنانے سے پاکستان کو زیادہ لچکدار اور ڈیٹا پر مبنی واٹر مینجمنٹ فریم ورک بنانے میں مدد ملے گی، جس سے ملک ابھرتے ہوئے علاقائی آبی چیلنجوں کا مؤثر جواب دینے کے قابل ہو سکے گا

ہندوتوا حکومت اسلاموفوبیا اور اقلیتوں پر مظالم میں ملوث؛ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوششیں علاقائی امن کے لیے خطرہ

محمود احمد, JULY 24,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل اور قرارداد 2788 کے حوالے سے ہونے والے مباحثے کے دوران پاکستانی مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے بھارتی وفد کے بے بنیاد الزامات اور غلط بیانی کا سخت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔

حقِ جواب کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ صائمہ سلیم نے کہا کہ یہ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ بھارت امن کا درس دے رہا ہے جبکہ وہ خود بین الاقوامی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں، پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیت اور اپنے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں شدید جبر و استبداد کا مرتکب ہو رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا نام نہاد ‘اٹوٹ انگ’ یا داخلی معاملہ ہرگز نہیں ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کوئی وقت کی حد نہیں ہوتی۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے شہری تمام بنیادی حقوق اور آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آوازوں کو دبایا جاتا ہے اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

صائمہ سلیم نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بھارتی یکطرفہ کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی بنیاد ہے اور اسے جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری کے سامنے بھارتی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 1 لاکھ کے قریب قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو بھارتی مالی و عسکری معاونت کا حوالہ دینے کے ساتھ ساتھ کلبھوشن یادیو اور شمالی امریکہ میں بھارتی ایجنٹوں کے غیر ملکی قتل کے منصوبوں کو عالمی سطح پر پھیلتی بھارتی دہشت گردی کا ثبوت قرار دیا۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کے تحت بھارت میں 20 کروڑ سے زائد مسلمان، مسیحی، دلت اور سکھ شدید ظلم و ستم کا شکار ہیں، جس نے نام نہاد ‘سب سے بڑی جمہوریت’ کے دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے ہر قسم کی اشتعال انگیزی کے باوجود ہمیشہ تحمل، مذاکرات اور پرامن حل کو ترجیح دی ہے اور بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کی کوششوں کی سخت مخالفت؛ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب

محمود احمد, JULY 22,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے قومی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قدرتی وسائل کو تنازعات، جبر اور استحصال کے بجائے پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا وسیلہ بننا چاہیے۔

اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت کی جانب عالمی منتقلی کے باعث اہم معدنیات پر مقابلہ ایک نئی جیو پولیٹیکل حقیقت بن چکا ہے۔ کمزور طرزِ حکمرانی، قدرتی وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار اور بیرونی مداخلت دنیا کے مختلف خطوں میں بدامنی اور انسانی بحرانوں کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے جمہوریہ کانگو اور افریقہ کی مثالیں دیتے ہوئے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سپلائی چینز میں محض خام مال کے فراہم کنندہ کے بجائے ویلیو ایڈیشن اور منصفانہ آمدنی کا برابر کا شریک بنایا جائے اور بین الاقوامی قانون کے تحت قدرتی وسائل پر اقوام کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے مشترکہ آبی وسائل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے ) کو غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوششوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ رویہ 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور روزگار کے لیے مستقیم خطرہ ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اگست 2025ء میں ثالثی عدالت کے فیصلے نے واضح کر دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر فعال، قانونی اور دونوں ممالک پر نافذ العمل ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کے متنازع پس منظر میں بھارت کی جانب سے پانی کو بطورِ سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے استحصال اور انہیں ہتھیار بنانے کے اقدامات پر کڑی نظر رکھے اور پرامن حل کے لیے پیشگی سفارت کاری کا مؤثر استعمال کرے۔