پاکستان ریلوے کی بحالی اور جدید کاری کے لیے 2033ء تک کے 10 سالہ سٹریٹجک روڈ میپ پر کام کا آغاز؛ ایم ایل-1 اور ایم ایل-3 شامل

Spread the love

کاشف عباسی , JULY 23,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک میں ریلوے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، محفوظ بنانے اور ادارے کو مالی طور پر خودمختار و مستحکم کرنے کے لیے 2033ء تک کے 10 سالہ جامع سٹریٹجک روڈ میپ پر باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے اسلام آباد میں ‘اُڑان پاکستان’ پروگرام کے تحت پاکستان ریلوے کی بحالی و اصلاحات سے متعلق منعقدہ خصوصی اعلیٰ سطحی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ 10 سالہ روڈ میپ کے تحت مین لائن 1 (ML-1) اور مین لائن 3 (ML-3) کی اپ گریڈیشن، علاقائی مواصلاتی رابطوں کا فروغ اور ادارے کے تمام شعبوں کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن جیسے اہم منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔

محمد حنیف عباسی نے ریلوے کی شاندار مالیاتی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ مالی سال 2025-26ء کے دوران پاکستان ریلوے نے 115 ارب روپے کی تاریخ ساز اور ریکارڈ آمدنی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کی مجموعی آمدن میں 24.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، مال برداری (فرائیٹ) کی آمدن 32 ارب سے بڑھ کر 41 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ پراپرٹی و لینڈ ریونیو میں 113 فیصد کی تاریخی ترقی ہوئی۔ اس کے علاوہ آپریٹنگ ریشو 96 فیصد سے بہتر ہو کر 84 فیصد پر آ گئی ہے۔

وزیر ریلوے نے فورم کے انعقاد پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کی بحالی محض ٹرانسپورٹ کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘تھر کول ریلوے کنیکٹیوٹی’ منصوبے پر 60 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے دسمبر 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ای آر پی سسٹمز، ڈیجیٹل ٹکٹنگ، سمارٹ ریلوے سٹیشنز اور نجی شعبےکی شراکت داری سے پاکستان ریلوے کو جلد ہی قومی ترسیل و لاجسٹکس کی اصل ریڑھ کی ہڈی بنا دیا جائے گا۔