Latest news

رانا ثنا اللہ: خیبر پختونخوا میں نیا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا

Spread the love

منصور احمد,October07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور جماعتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کی روش ترک کرکے تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔ تاہم ان کے بقول ریاست پر دباؤ ڈال کر سیاسی مطالبات منوانے کے لیے مذاکرات کی خواہش کو بطور ہتھکنڈا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے، تاہم حکومت کوئی نیا فوجی آپریشن شروع نہیں کر رہی اور نہ ہی نئی بے گھر آبادی پیدا ہونے کا کوئی امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پہلے سے ایک منصوبہ موجود ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے، جبکہ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت کسی بڑے نئے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہی ہے، تاہم ایسا نہیں ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کارروائیاں ان عناصر کے خلاف کی جا رہی ہیں جو سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے آپریشنز کی مخالفت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا مقصد شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا تحفظ ہے۔

پی ٹی آئی کے مؤقف پر حکومت کا ردعمل

وزیراعظم کے مشیر نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں تعطل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو پی ٹی آئی کی جانب سے درست تناظر میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر مشاورت کو مسترد کردیا ہے یا اپوزیشن کو اس معاملے سے الگ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کے بعض بیانات کو بھی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے مسئلے پر سیاسی سطح پر مشاورت کے لیے تیار ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے متعدد مرتبہ خیبر پختونخوا حکومت کو عوامی فلاح و بہبود اور گورننس کے معاملات پر توجہ دینے کا کہا، تاہم صوبائی حکومت نے ان معاملات کو مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔

لانگ مارچ اور صوبے کی سکیورٹی صورتحال

پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر سے جاری لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف مختلف مقامات پر چند ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں کرسکی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ لانگ مارچ کے کیمپوں کے لیے کروڑوں روپے چندہ جمع کیا گیا، لیکن شرکا کو بنیادی سہولیات بھی مناسب طور پر فراہم نہیں کی گئیں۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبے کے پانچ اضلاع میں پولیس تھانے موجود نہیں، جبکہ پولیس کی تقریباً 17 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ ان کے مطابق پولیس میں بھرتیوں اور تربیت کے عمل میں بھی مسائل موجود ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی مجموعی نفری تقریباً 3,300 اہلکاروں پر مشتمل ہے، جن میں صرف 25 مستقل حیثیت رکھتے ہیں جبکہ دیگر ایڈہاک بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول متعدد علاقوں میں تھانوں کی عمارتیں، ضروری ہتھیار اور دیگر وسائل بھی دستیاب نہیں۔

افغانستان سے متعلق مؤقف

افغانستان کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ قطر، چین، سعودی عرب اور ترکی نے افغان طالبان کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کرنے اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مطابق افغان طالبان پاکستان کو مطلوبہ یقین دہانی کرانے پر آمادہ نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
رانا ثنا اللہ کے بیان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں اور کسی نئے بڑے فوجی آپریشن کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس، سی ٹی ڈی، تھانوں اور خالی آسامیوں سے متعلق اعداد و شمار وزیرِاعظم کے مشیر کے بیان کے طور پر پیش کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔

ماخذ: رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس، حکومتِ پاکستان