سانحہ ساہیوال مقدمہ: سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کو مزید تیاری اور دستاویزات پیش کرنے کی مہلت دے دی

Spread the love

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ساہیوال میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے ایک ہی خاندان کے افراد کو قتل کیے جانے کے المناک واقعے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ کو مزید تیاری اور متعلقہ ضروری دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم بینچ نے منگل کے روز اس اہم مقدمے کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے موقف اختیار کیا کہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک بے گناہ خاندان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اور خاندان میں شامل معصوم بچوں کی لاشیں بھی جنگل میں پھینک دی گئی تھیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل اس وقت زیرِ سماعت ہے۔

وکیل نے عدالتِ عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں فریق بننے اور استغاثہ کی قانونی معاونت کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کی تھی، تاہم ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے اس پر اعتراضات عائد کیے اور بعد ازاں ہائی کورٹ نے بھی ان اعتراضات کو برقرار رکھا۔

سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت مقتولین کے ورثا میں سے بھی کوئی فرد عدالت میں موجود ہے؟ اس پر وکیل ذوالفقار بھٹہ نے جواب دیا کہ پنجاب کے موجودہ حالات میں متاثرہ خاندان کے لیے کھلے عام سامنے آنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہاں لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں بھی پھنسا دیا جاتا ہے۔ اس پر وکیل حسن رضا پاشا نے اعتراض اٹھایا کہ درخواست گزار کے وکیل نے پنجاب کے تمام وکلا کے خلاف بات کی ہے، جس پر ذوالفقار بھٹہ نے فوری وضاحت کی کہ انہوں نے وکلا کے خلاف کوئی بات نہیں کی بلکہ محض صوبہ پنجاب کے مجموعی حالات کا ذکر کیا تھا۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے آئینی پہلو پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کیا سپریم کورٹ کے پاس براہِ راست ایسا اختیار موجود ہے؟ جس پر وکیل ذوالفقار بھٹہ نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ آئین پاکستان کے آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کی فراہمی کے لیے فیصلہ دے سکتی ہے۔

دورانِ کارروائی سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس معاملے میں کسی قسم کی معاونت درکار نہیں۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ اس سنگین معاملے پر ان کے علاوہ آواز اٹھانے والا کوئی دوسرا موجود نہیں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں کیس کی مزید مکمل تیاری اور تمام ضروری دستاویزات ریکارڈ پر لانے کی مہلت فراہم کی اور کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔