

کاشف عباسی , August 28,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء
وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں—پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ ، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ ، سائنرجیکو اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد، ریفائنریوں کی مالی و آپریشنل کارکردگی اور ملکی توانائی کے تحفظ کو مستحکم بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام پانچوں ریفائنریوں کی انتظامیہ نے پالیسی کے تحت اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے اپنی مکمل آمادگی کا اعادہ کر دیا ہے۔ ان معاہدوں پر ستمبر 2026ء کے آغاز میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی خطیر غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اس پیش رفت کو ملکی توانائی کے تحفظ کے لیے میل پتھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریفائنریوں کی جدید کاری سے پاکستان میں یورو فائیو معیار کی پٹرولیم مصنوعات کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی۔ اس اقدام سے پٹرول اور ڈیزل کی مہنگی درآمدات پر پاکستان کا انحصار نمایاں حد تک کم ہوگا اور مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی اور استحکام آئے گا۔ وفاقی وزیر نے پارکو اور پی آر ایل کی جانب سے حال ہی میں آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران بلا تعطل پٹرولیم سپلائی کا سلسہ برقرار رکھنے پر ان کی آپریشنل کارکردگی کو سراہا اور حب میں مجوزہ اسٹریٹجک ‘آئل سٹی’ اور اسٹوریج کمپلیکس منصوبے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جو ملک کی ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور سپلائی چین کو پائیدار بنائے گا۔
ملاقاتوں کے دوران اٹک ریفائنری، سائنرجیکو اور نیشنل ریفائنری کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے پالیسی کے لیے اپنی مطلوبہ تیاریاں مکمل ہونے کی تصدیق کی اور پٹرولیم ڈویژن کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت ریفائننگ انڈسٹری کو درپیش قانونی اور آپریشنل مسائل کے حل اور 6 ارب ڈالر کے اس میگا اپ گریڈیشن پروگرام پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت کاری اور تعاون فراہم کرتی رہے گی۔