ہر قیدی کے لیے قانون ایک ہونا چاہیے، کسی کو استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا: وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ

منصور احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین و قانون کی نظر میں ملک کا ہر شہری اور قیدی برابر ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے کسی بھی قسم کی خصوصی سہولت یا الگ قانون کا مطالبہ آئین کے خلاف ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا نظام قانون اور ضابطے کے تحت چلتا ہے اور کسی بھی فردِ واحد کے لیے الگ سے قوانین وضع نہیں کیے جا سکتے۔

وزیرِ قانون نے پارلیمانی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں ملاقاتوں اور دیگر سہولیات کے لیے واضح قواعد و ضوابط موجود ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اوپن کورٹ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے معاون کے طور پر جو رپورٹ پیش کی تھی، اس میں جیل کے اندر خوراک، صفائی، ورزش کے اوقات اور سیل کی سہولیات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آئین تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے تو پھر کسی ایک قیدی کو ایسی خصوصی سہولتیں کیسے دی جا سکتی ہیں جو عام قیدیوں کو میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو ان کی پسند کے ڈاکٹر سے علاج یا دیگر انفرادی مراعات دی گئیں تو یہی حق ملک کی جیلوں میں بند ہر عام قیدی کو دینا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اصول اور قوانین عمران خان کے لیے ہیں، وہی نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت ہر سیاسی رہنما اور عام شہری کے لیے بھی یکساں ہیں۔ انہوں نے سینیٹرز اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ پہلے قوانین کا جائزہ لیں اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں۔