عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کو قیدِ تنہائی ختم کرنے کا بڑا حکم

کاشف عباسی , September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ کے محترم جسٹس خادم حسین سومرو نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات اور بنیادی حقوق سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم اور تفصیلی فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو واضح حکم جاری کیا ہے کہ دونوں شخصیات کو کسی بھی صورت قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور آئین و قانون کے مطابق تمام قانونی و بنیادی حقوق اور انسانی سہولیات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ کو باقاعدہ ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپس میں باقاعدہ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اپنے اہل خانہ، وکلاء اور عزیز و اقارب سے جیل قوانین کے مطابق تمام ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔ اس کے علاوہ مطالعے کے لیے کتابیں، روزنامچے اور ٹیلی ویژن کی سہولت فوری طور پر بحال کرنے کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمران خان کو جیل احاطے میں روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ ایسی کھلی جگہ پر واک اور قدم زنی کی اجازت دی جائے جہاں معمول کا انسانی میل جول ممکن ہو، جبکہ ان سے ملنے والے تمام افراد کا باقاعدہ اندراج اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

عمران خان کے لیگل کونسل خالد یوسف چوہدری نے عدالتی فیصلے کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک مقیم اپنے بیٹوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم، عدالت عالیہ نے فیصلے میں ایک اہم مشروط شق بھی شامل کی ہے کہ اگر ان ٹیلی فونک یا ویڈیو کالز کو ریکارڈ کر کے بعد میں کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد یا مہم جوئی کے لیے استعمال کیا گیا تو جیل حکام کے پاس یہ سہولت واپس لینے کا قانونی اختیار ہو گا۔

ہائیکورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں اس قانونی نقطے کو بھی نمایاں کیا ہے کہ اگر جیل انتظامیہ عمران خان یا بشریٰ بی بی کو قانون یا عدالت کے تحت حاصل کسی بھی ریلیف یا سہولت سے محروم کرتی ہے، تو انتظامیہ کو اس محرومی کی باقاعدہ تحریری وجوہات اور قانونی جواز فراہم کرنا ہوں گے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ 15 روز کے اندر ان تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی عمران خان کے خلاف سازش ہو سکتی ہے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا شدید خدشات اور الزامات کا اظہار

کاشف عباسی , August 27,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے اور معصوم نومولود بچوں کی شہادت پر انتہائی گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز اور سنگین ادعا پیش کیا ہے۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پمز ہسپتال میں ہونے والا یہ آتشزدگی کا واقعہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو نشانہ بنانے یا ان کے خلاف بچھایا گیا کوئی خفیا جال بھی ہو سکتا تھا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے معصوم نوزائیدہ بچوں کا کسی سیاسی احتجاج یا اقتدار کی کشمکش سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ بے زبان بچے اپنے حق میں بول بھی نہیں سکتے تھے، اس لیے اس دل دوز واقعے کے پیچھے مجرمانہ غفلت اور سازش شامل ہے جس کی شفاف، اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

بقايا خطاب کے دوران عمران خان کے حالیہ طبی معائنے اور ہسپتال منتقلی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سنگین الزامات عائد کیے کہ ابھی چند دن قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کی غرض سے اسی پمز ہسپتال لایا گیا تھا، جس سے یہ شک پختہ ہوتا ہے کہ شاید ان کے لیے بھی وہاں کوئی خطرناک جال بچھایا گیا تھا تاکہ مستقبل میں کسی حادثے یا آتشزدگی کی آڑ میں ان کی جان لی جا سکے، باقی واللہ اعلم، یہ لوگ اپنے مقاصد کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور بعد میں کسی بھی حادثے کا بہانہ تراش سکتے ہیں۔ اس المناک واقعے کے تناظر میں سہیل آفریدی نے صوبائی محکمہ صحت کو فوری ہدایات جاری کی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں آتشزدگی سے بچاؤ، ایمرجنسی ایگزٹ اور ہنگامی سیفٹی انتظامات کا تفصیلی آڈٹ کیا جائے اور ہسپتالوں کے حفاظتی ضوابط کا ازسرِنو جائزہ لے کر عملے کو فائر فائٹنگ کی تربیتی مشقیں کروائی جائیں تاکہ مریضوں کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان خان کی آن لائن پریس کانفرنس: والد سے رابطے پر پابندی اور صحت پر شدید تشویش کا اظہار

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے صاحبزادے سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک بین الاقوامی آن لائن نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اُنھیں اپنے والد سے ملے ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں جبکہ گذشتہ چھ ماہ سے اُن کی فون پر بھی کوئی بات نہیں کروائی گئی۔ آن لائن نیوز کانفرنس کے دوران عمران خان کے دونوں صاحبزادوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد اس وقت جن کٹھن اور سخت حالات سے گزر رہے ہیں وہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سلیمان خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضح احکامات جاری کیے جا چکے ہیں کہ عمران خان کی ان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروائی جائے لیکن اس کے باوجود حکام نے تاحال ان کے اس بنیادی حق کی اجازت نہیں دی اور مسلسل لعل و گوہر سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملنے کے لیے ویزے جاری کرنے سے بھی مسلسل گریز کر رہے ہیں۔ نیوز کانفرنس کے دوران قاسم خان کا کہنا تھا کہ ان کے والد بے حد مضبوط اعصاب کے مالک شخص ہیں لیکن 73 سال کی عمر میں ان کے ساتھ جیل میں جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اس کے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قاسم خان نے مزید بتایا کہ ان کے والد گزشتہ تین برسوں سے عملاً قیدِ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے سیاسی موقف اور نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے یہ ہنگامی پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق وزیرِ اعظم کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے لیکن حکومت نے سکیورٹی خدشات کا عذر پیش کرتے ہوئے انہیں پمز منتقل کیا تھا اور یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ معائنے کے بعد وہ بالکل صحت مند پائے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اس عمل کو عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظرثانی درخواست جمع کروائی ہوئی ہے۔

عمران خان کی شفاء ہسپتال منتقلی کا کیس: چیف کمشنر اسلام آباد کی سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست کی جلد سماعت کی اپیل

کاشف عباسی , August 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

چیف کمشنر اسلام آباد نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفاء ہسپتال منتقل کرنے اور مخصوص میڈیکل بورڈ کے ذریعے معائنے سے متعلق اعلیٰ ترین عدالت کے 18 اگست کے حکم کے خلاف دائر کردہ ریویو پٹیشن کی جلد از جلد اور بلا تاخیر سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں باقاعدہ متفرق درخواست دائر کر دی ہے۔ دائر کی گئی اس ہنگامی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ 18 اگست کے اپنے عدالتی حکم پر نظرثانی کرے، اس میں مناسب قانونی ترامیم لائے یا پھر اس فیصلے کو مکمل طور پر واپس لے۔

چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ریویو پٹیشن میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا یہ معاملہ صرف قیدی کو طبی سہولیات کی فراہمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ متعلقہ قانونی، انتظامی اور آئینی دائرہ اختیار سے بھی براہِ راست منسلک ہے۔ پٹیشن میں آئین کی 27ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے دائرہ اختیار، آرٹیکل 175 (2) اور جیل قوانین سے متعلق کئی اہم اور پیچیدہ قانونی و آئینی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن پر باریک بینی سے غور کرنا ناگزیر ہے۔

درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے سامنے یہ نقطہ بھی رکھا ہے کہ چونکہ 18 اگست کا عدالتی حکم وقت کی پابندی اور مخصوص ڈیڈ لائن پر مبنی تھا، اس لیے آئینی، قانونی اور انتظامی تنازعات کے فوری حل کے لیے اس ریویو پٹیشن کو بلا تاخیر اور ہنگامی بنیادوں پر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ تمام متعلقہ اداروں کے تحفظات کو قانونی دائرہ کار میں لایا جا سکے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توہینِ عدالت کی درخواست: سپریم کورٹ سے الاٹ ڈائری نمبر میں 17 اور 804 کا عجیب اتفاق

کاشف عباسی , August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

پاکستان کی تعبیر و تشریح، جدید آئینی و قانونی تاریخ اور معاصر سیاسی منظر نامے میں بعض ہندسے ایسے ہوتے ہیں جو محض ریاضی یا گنتی کا عام اعداد و شمار کا حصہ نہیں رہتے بلکہ ایک مستقل اور طاقتور استعارہ، سیاسی تحریک کی علامت اور قومی شناخت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ملکی سیاست کے افق پر پچھلے کچھ عرصے سے دو ہندسے 17 اور 804 انتہائی کثرت کے ساتھ زبانِ زدِ عام رہے ہیں اور عوام و خواص میں یکساں مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن اب قدرت کے ایک ایسے غیر معمولی اور دلچسپ اتفاق نے جنم لیا ہے جس نے سیاسی مبصرین، قانون دانوں، تجزیہ کاروں اور عام عوام کو ایک نئی حیرت اور دلچسپی میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں یہ دونوں استعارے ایک ہی قانونی دستاویز کی زینت بن گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے موجودہ حکومت کی بعض مبینہ پالیسیوں اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کے خلاف اعلیٰ ترین عدالت میں دائر کی جانے والی توہینِ عدالت کی انتہائی اہم، حساس اور مقبول ترین پٹیشن کے ڈائری نمبر میں یہ دونوں تاریخی ہندسے ایک ساتھ نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے متعلقہ شعبہ رجسٹری نے جب اس ہائی پروفائل پٹیشن کو وصول کیا اور اپنے باقاعدہ نظام کے تحت اسے رسمی طور پر ایک ڈائری نمبر الاٹ کیا تو اتفاقیہ طور پر اس کے عددی امتزاج میں 17 اور 804 کی ترتیب بالکل واضح، منفرد اور جگمگاتی ہوئی نمایاں نظر آئی۔

سیاسی حلقوں، قانونی ماہرین کی گفتگو اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اس عجیب و غریب اور نادر اتفاق کو شدید حیرت اور تجسس کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں 804 کا ہندسہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قیدی شناخت اور ان کے کروڑوں حامیوں کا سب سے بڑا سیاسی نعرہ، آن لائن ٹرینڈ اور علامتی شناخت بن چکا ہے، تو دوسری طرف 17 کا ہندسہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں مبینہ طور پر حکومتی جماعت کی حقیقی نشستوں کی تعداد اور دھاندلی کے الزامات پر مبنی سیاسی بیانیے کے طور پر ملکی سیاسی بساط اور مختلف قانونی و آئینی معرکوں میں ایک خاص اہمیت اور مرکزیت کا حامل رہا ہے۔ ان دونوں انتہائی مقبول ترین اور سیاسی طور پر گرم ہندسوں کا ایک ہی کیس کے ڈائری نمبر میں یکجا ہو جانا کسی افسانوی داستان یا انمول صدف سے کم محسوس نہیں ہوتا۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ بار اور قانونی جریدوں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسے تو اعلیٰ عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں آئینی و قانونی پٹیشنز جمع ہوتی ہیں اور انہیں مختلف ترتیبات کے ساتھ ڈائری نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں، لیکن کسی مخصوص، انتہائی کوریج والے اور ہائی پروفائل سیاسی شخصیت کے مقدمے میں انہی کے سب سے مقبولِ عام سیاسی ہندسوں کا یوں یکسر باہم مل جانا ایک ناقابلِ یقین جادوئی اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف اس توہینِ عدالت کی پٹیشن کی قانونی سنجیدگی اور عوامی اہمیت کو دوبالا کر دیا ہے بلکہ اس کے ساتھ جڑے سیاسی سسپنس، صحافتی تجسس اور عوام کی توجہ کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید ماننا ہے کہ پاکستان کی قانون سازی اور عدالتی کارروائیوں میں علامت نگاری اور عددی اتفاقات اکثر عوامی جذباتی وابستگی کا باعث بنتے ہیں۔ اس پٹیشن پر اب تمام تر نظریں مرکوز ہو چکی ہیں کہ آیا یہ عددی امتزاج عدالتِ عظمیٰ کے اندر کیس کی پیشرفت اور قانونی سماعت کے دوران کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔ عمران خان کی قانونی ٹیم نے اس حوالے سے اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک مثبت شگون قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ عدالتیں جذبات یا عددی اتفاقات سے بالاتر ہو کر محض آئین، قانون اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے صادر کرتی ہیں۔

بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی پریس کانفرنس: عمران خان کی حالت اور جیل میں مبینہ سلوک پر اظہارِ تشویش

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بھائی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو گئیں اور دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ نا روا اور غیر انسانی سلوک کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بار بار اس بات پر زور دے رہے تھے کہ قوم کو بتایا جائے کہ انہیں شدید ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جیل انتظامیہ ان کی کوئی بات نہیں سن رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان مشکلات بیان کرتے ہیں تو حکام کی جانب سے کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہا جائے گا۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے واضح کیا کہ انہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کا بتایا تھا جس پر وہ خوش تھے، نیز انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ عمران خان شفا ہسپتال نہیں گئے تھے۔

سپریم کورٹ کا حکم نہ ماننے پر توہینِ عدالت ہوگی: سلمان اکرم راجہ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بڑا بیان

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت حکومت کے پاس کل تک کا وقت موجود ہے، اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری طور پر الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو یہ سیدھی توہینِ عدالت تصور ہوگی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ حکومت کی نظرثانی درخواست اتنی جلدی کل تک سنی جا سکے گی، کیونکہ سپریم کورٹ میں جب بھی کوئی درخواست دائر ہوتی ہے تو اس کی ابتدائی پڑتال اور انتظامی کارروائی میں ہی چار سے چھ دن لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی حکم پر آج یا کل تک عملدرآمد نہ ہونے کی کوئی قانونی جواز یا وجہ موجود نہیں ہے، اور عمران خان کو آئینی و عدالتی احکامات کے عین مطابق الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال لازمی منتقل کیا جانا چاہیے۔

سلمان اکرم راجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے اس واضح عدالتی حکم کی عدولی یا توہینِ عدالت کی تو پی ٹی آئی نہ صرف عدالتِ عظمیٰ میں توہینِ عدالت کی باضابطہ درخواست دائر کرے گی بلکہ عوام اور قوم کے سامنے بھی اس معاملے کو رکھے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ایک محض خیرسگالی ملاقات تھی جس میں پی پی پی نے اپوزیشن کے ساتھ رابطے بحال کرنے اور انتخابی اصلاحات پر مکالمے کی خواہش ظاہر کی، تاہم سلمان اکرم راجہ نے واضح کر دیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے تفصیلی مشاورت کے بغیر کوئی بھی سیاسی یا پارلیمانی بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملاقات کے دوران پی پی وفد نے عدالتی حکم کو سراہا جبکہ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

عمران خان کی ہسپتال منتقلی پر علیمہ خان کا ردِعمل، انصاف کی فراہمی پر سپریم کورٹ اور عوام کا شکریہ

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور مکمل طبی علاج کی سہولت فراہم کرنے کے فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے جذبات اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس انسانی فیصلے پر عدلیہ کے ججز اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر عوام اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہم اس فیصلے پر بے حد خوش ہیں، ایک وقت ایسا آ گیا تھا جب تمام امیدیں ختم ہو چکی تھیں، لیکن بالکل اسی مایوسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے انصاف کا راستہ کھولا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے سیاسی گفتگو اور میڈیا ٹاک پر عائد پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کوئی سیاسی بات نہیں کریں گی، اس لیے انہوں نے تفصیلی گفتگو سے معذرت کی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے باقاعدہ یقین دہانی کروائی ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے بعد پارٹی کی جانب سے ہسپتال کے باہر کسی قسم کا احتجاج، اجتماع یا ہلڑ بازی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور عدالتی احکامات و فراہم کردہ یقین دہانی کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

ہر قیدی کے لیے قانون ایک ہونا چاہیے، کسی کو استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا: وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ

منصور احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین و قانون کی نظر میں ملک کا ہر شہری اور قیدی برابر ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے کسی بھی قسم کی خصوصی سہولت یا الگ قانون کا مطالبہ آئین کے خلاف ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا نظام قانون اور ضابطے کے تحت چلتا ہے اور کسی بھی فردِ واحد کے لیے الگ سے قوانین وضع نہیں کیے جا سکتے۔

وزیرِ قانون نے پارلیمانی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں ملاقاتوں اور دیگر سہولیات کے لیے واضح قواعد و ضوابط موجود ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اوپن کورٹ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے معاون کے طور پر جو رپورٹ پیش کی تھی، اس میں جیل کے اندر خوراک، صفائی، ورزش کے اوقات اور سیل کی سہولیات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آئین تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے تو پھر کسی ایک قیدی کو ایسی خصوصی سہولتیں کیسے دی جا سکتی ہیں جو عام قیدیوں کو میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو ان کی پسند کے ڈاکٹر سے علاج یا دیگر انفرادی مراعات دی گئیں تو یہی حق ملک کی جیلوں میں بند ہر عام قیدی کو دینا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اصول اور قوانین عمران خان کے لیے ہیں، وہی نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت ہر سیاسی رہنما اور عام شہری کے لیے بھی یکساں ہیں۔ انہوں نے سینیٹرز اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ پہلے قوانین کا جائزہ لیں اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں۔

عمران خان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کر کے ہسپتال منتقل کیا جائے: فواد چوہدری کا مطالبہ

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی حالیہ میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت سے ان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کرنے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد یہ بات انتہائی ضروری ہو چکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی سے نکال کر علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مقبول ترین لیڈر کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا اور قیدِ تنہائی میں رکھنا شدید قابلِ مذمت ہے، لہٰذا طبی ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والے معالجین نے ان کی صحت، بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم سفارشات مرتب کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل کے احاطے اور ماحول میں نرمی لائی جائے، انہیں روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کی اجازت دی جائے اور ان کی ذہنی مصروفیت کے لیے کتب، اخبارات، میگزینز اور ٹی وی کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ میڈیکل بورڈ نے اہلیہ اور اہلخانہ سے ملاقاتوں کے وقت اور دورانیے میں اضافے کی بھی خصوصی سفارش کی ہے تاکہ ان کی صحت کو معمول پر لایا جا سکے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جیل سے اکبر ایس بابر کو اہم پیغام: ناراض ارکان کو متحد کرنے کی خواہش اور اکبر ایس بابر کے گھر جانے کا اعلان

کاشف عباسی , August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے جیل سے پارٹی کے بانی رہنما اور دیرینہ ساتھی اکبر ایس بابر کو اہم پیغام بھیجے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اکبر ایس بابر نے اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کے ایک مشترکہ دوست، جو خود بھی جیل میں ہیں، کے ذریعے یہ پیغام ان تک پہنچایا گیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد سب سے پہلے اکبر ایس بابر کے گھر جائیں گے۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی نے خواہش ظاہر کی ہے کہ پارٹی کے ابتدائی دور سے وابستہ، ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو دوبارہ ایک ہی سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔ عمران خان نے اپنے ابتدائی ساتھیوں کو پارٹی کا حقیقی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ جدوجہد کے دور کے مخلص ارکان کی کمی ہمیشہ محسوس کی گئی اور اب ان تمام لوگوں کو دوبارہ قریب لانے کی شدید ضرورت ہے۔

عمران خان کا پیغام موصول ہونے کے بعد اکبر ایس بابر نے ناراض ارکان اور بانی رہنماؤں کو متحد کرنے کے لیے عملی کاوشیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی پنجاب کے سابق سینئر نائب صدر رانا سہیل کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں امین ذکی، فیصل پیرزادہ اور آصف احمد شامل ہیں۔ کمیٹی نے ان تمام ساتھیوں سے رابطہ مہم کا آغاز کر دیا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر پارٹی سے دور یا ناراض ہو گئے تھے۔

اکبر ایس بابر کے مطابق عمران خان کے اس پیغام پر ناراض ارکان کا ردعمل انتہائی مثبت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ان کے کبھی ذاتی نہیں بلکہ محض سیاسی اختلافات رہے ہیں اور اگر بانی پی ٹی آئی ان کے گھر آئیں گے تو وہ ان کا گرمجوشی سے استقبال کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمام بانی ارکان اور کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے بعد اگلے ماہ لاہور میں ایک بڑا کنونشن منعقد کیا جائے گا تاکہ نظریاتی ساتھیوں کو دوبارہ ایک پیج پر لایا جا سکے۔

فواد چوہدری کا داؤ: “موجودہ نظام بالکل ناکام ہو چکا، سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ میں عمران خان کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں”

منصور احمد, August 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور حکومت عملی طور پر فارغ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کا آغاز ہونا ضروری ہے، تاہم تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے بغیر ایسا کوئی بھی مذاکراتی عمل ہرگز مکمل نہیں ہو سکتا۔

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا اور کہا کہ تین وفاقی وزراء خود وزیراعظم کی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیانیے اور عدم اعتماد کی تحریک کے وقت ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ موجودہ سیٹ اپ ملک نہیں چلا سکتا۔

پنجاب کی ممکنہ تقسیم کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصلاحات صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ اصل مسائل دیگر صوبوں میں ہیں۔ پاکستان چند بلوچ اور سندھی وڈیروں کی منشا کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا اور بلوچستان کو 1970ء سے پہلے والی اصل سیاسی و انتظامی بنیادوں پر بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

فواد چوہدری نے زور دے کر کہا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت پوری طرح کھو چکا ہے اور اب اس میں متبادل اصلاحات پر بات ہونا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ نئے صوبے، بلدیاتی نظام اور ذیلی انتظامی حدود جیسے موضوعات پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے کیونکہ پرانے طرزِ حکمرانی کو زبردستی جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

حکومتی اخراجات اور وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہانہ اخراجات کی ایسی مثالیں ماضی میں بھی نہیں ملتی۔ اربوں روپے کے جہاز کی خریداری، مختلف تقاریب کے بے دریغ اخراجات، وکلاء و صحافیوں میں مبینہ فنڈز کی تقسیم اور بیوروکریسی کے لیے اربوں روپے جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی وسائل کا بے دردی سے زیاں کیا جا رہا ہے۔

علیمہ خان کا کوہاٹ میں کارکنوں سے خطاب: “ریاست 24 کروڑ عوام ہیں، تصادم نہیں اتحاد کی ضرورت ہے”

کاشف عباسی , August 02,2026

کوہاٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ اب نہ کسی نے گولیاں کھانی ہیں اور نہ ہی کسی نے گولیاں مارنی ہیں کیونکہ سپاہی اور فوجی بھی ہمارے اپنے ہی بچے ہیں، اور شہادتیں عوام و سپاہیوں دونوں کی ہو رہی ہیں، اس لیے وقت کا تقاضا تصادم کے بجائے اتحاد اور امن ہے۔

کوہاٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ گفتگو کے تناظر میں کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے ادارے خود کو ریاست قرار دیتے ہیں، حالانکہ ریاست تنخواہ دار ادارے نہیں بلکہ وہ 24 کروڑ عوام ہیں جو اپنی جیب سے ٹیکس ادا کر کے ان اداروں کو چلاتے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں کے غیور عوام کو غدار یا دہشت گرد قرار دینا انتہائی غیر مناسب طرزِ عمل ہے۔

عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ گردش کرنے والی خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کو بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہے، حالانکہ انہیں پہلے ایسا کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا فوری طور پر ہسپتال میں مکمل طبی معائنہ کرایا جائے، مناسب علاج فراہم کیا جائے اور ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا آنے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

علیمہ خان نے پی ٹی آئی کے بنیادی مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق ہر ہفتے 18 افراد کو عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے کیونکہ ملاقاتیں بند کر کے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ مزید برآں، عمران خان کے تمام مقدمات جلد سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ انہیں قانون کے مطابق انصاف مل سکے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن انداز میں آواز بلند کریں اور متحد رہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا خاتمہ صرف اور صرف عمران خان کی رہائی سے ہی ممکن ہے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں معیشت بہتر تھی اور جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد پر تھی، جبکہ کورونا وبا کے باوجود ملک کو کامیابی سے چلایا گیا، تاہم بعد میں ایک سازش کے تحت حکومت ختم کر کے ملک کو سنگین بحرانوں میں دھکیلا گیا۔