

منصور احمد, August 12,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ‘آسان خدمت مرکز’ کا بنیادی مقصد حکومتی خدمات کو شہریوں کے لیے آسان، تیز اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے ایک ہی چھت تلے مختلف سرکاری اداروں کی 60 سے زائد خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے شہریوں کو مختلف دفاتر کے چکر لگانے اور طویل قطاروں میں کھڑے ہونے سے نجات مل گئی ہے۔
آسان خدمت مرکز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان اور آذربائیجان کے باہمی تعاون سے صرف 90 دنوں کے اندر قائم کیے گئے اس مرکز میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ، نادرا، سی ڈی اے، اسلام آباد پولیس، میونسپل کارپوریشن اور وزارتِ خارجہ کی خدمات دستیاب ہیں۔ مرکز میں شادی اور نکاح کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جہاں حال ہی میں ایک تقریب کا انعقاد کر کے محض نصف گھنٹے کے اندر رجسٹریشن اور شناختی کارڈز کا کام مکمل کیا گیا۔
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے تحت 39 وفاقی سرکاری محکموں کو پیپر لیس بنایا جا چکا ہے اور ‘ون پیشنٹ، ون آئی ڈی’ نظام کے تحت 42 لاکھ مریضوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ ادویات کی سیریلائزیشن کا پروجیکٹ بھی زیرِ تکمیل ہے جس سے شہری اصلی اور جعلی دوا کی فوری تصدیق کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ روایتی اسٹامپ پیپرز کے مسائل کو ختم کرنے کے لیے ای اسٹامپ کے ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اوورسیز پاکستانیوں کی رائے و شکایات کے لیے بھی آن لائن پلیٹ فارم فعال کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ حکومت کی بنیادی توجہ طریقہ کار کے بجائے شہری مرکزیت پر مبنی طرزِ حکمرانی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل حدود اور ڈیجیٹل خودمختاری بھی ملک کے لیے ایک اہم وجودی معاملہ ہے، اور انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق پاکستان اب دنیا کے اعلیٰ ترین سائبر سیکیورٹی ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے اور ملک اپنے 79ویں یومِ آزادی پر ڈیجیٹل محاذ پر بالکل درست سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔