انڈس راس ایکسپو 2026ء انتہائی کامیاب رہی؛ عالمی مسابقت کے لیے روایتی صنعتوں کو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ

محمود احمد, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ عالمی معیشت میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو روایتی صنعتوں کو جدید آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظاموں سے آراستہ کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے راس (روبوٹکس اور خودمختار نظاموں) ایکسپو 2026ء کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ انڈس راس ایکسپو 2026ء انتہائی کامیاب رہی، جس میں 20 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ایکسپو میں اوپن انویٹیشن کے ذریعے موصول ہونے والی 500 سے زائد درخواستوں میں سے 54 کمپنیوں اور 10 اسٹارٹ اپس کو اپنی جدید مصنوعات اور ٹیکنالوجی پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ دنیا صنعتی معیشت سے نالج اکانومی کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیشت کی مضبوطی کے لیے صرف ٹیکسوں میں کمی یا سستی بجلی کافی نہیں ہوگی، بلکہ قومی صنعت کو جدید آٹومیشن اپنائی ہوگی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں روڈ شوز منعقد کیے جائیں گے تاکہ صنعتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی کی افادیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومت ایسے خصوصی سمولیٹرز بھی تیار کرے گی جہاں صنعتکار اپنی پیداواری لائنوں میں آٹومیشن کے اثرات کا عملی جائزہ لے سکیں گے۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ آٹومیشن سے روزگار کے مواقع ختم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے انضمام سے صرف ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوگی اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں مہارت رکھنے والے افراد کامیاب ہوں گے۔

دو روزہ ایکسپو کے دوران روبوٹکس، دفاعی ٹیکنالوجی، صنعتی آٹومیشن اور پالیسی ڈائیلاگز پر مبنی متعدد سیمینارز اور تربیتی سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔

صنفی ڈیجیٹل فرق کے خاتمے میں پاکستان دنیا کا تیز ترین ملک بن گیا، وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا او آئی سی کانفرنس سے مقتدر خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، سائبر سکیورٹی، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن کی ترقی میں خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی مقام ملنا چاہیے۔ وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام وفاقی دارالحکومت میں جاری خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق (مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق) کو کم کرنے میں دنیا بھر میں تیز ترین ترقی ریکارڈ کی ہے۔ جی ایس ایم اے کی مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے ڈیجیٹل شمولیت، خاص طور پر موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں دنیا کی سب سے بڑی اور تاریخی بہتری ریکارڈ کی ہے۔

وفاقی وزیر نے تزویراتی اعداد و شمار کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو پاکستان میں صنفی ڈیجیٹل فرق 35 فیصد تھا، جو 2025ء میں کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا اور اب 2026ء کی حالیہ مقتدر رپورٹ میں مزید گر کر صرف 8 فیصد پر آ گیا ہے۔ اس غیر معمولی پیشرفت نے پاکستان کو موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کو ختم کرنے والا دنیا کا تیز ترین ملک بنا دیا ہے، جہاں گزشتہ دو سالوں کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ اپنانے کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے زور دے کر کہا کہ صرف انٹرنیٹ تک رسائی (کنیکٹیویٹی) ہی کافی نہیں ہے، بلکہ کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ آیا دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنے، کمانے، ڈیجیٹل ادائیگیاں حاصل کرنے اور کامیاب کاروباری شخصیت (انٹرپرینیور) بننے کے لیے کر رہی ہیں یا نہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات نے کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے ذریعے باعزت طریقے سے مالی امداد فراہم کر کے بااختیار بنایا ہے۔ رمضان سبسڈی پروگرام کو وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کیا گیا، جس کے تحت سب سے کم آمدنی والی آبادی میں ایک ماہ کے اندر 8 لاکھ ڈیجیٹل والٹس بنائے گئے اور اس سال مزید 9 لاکھ خواتین ڈیجیٹل مالیاتی نظام کا حصہ بنی ہیں۔ حکومت نے نجی شعبے کے تعاون سے ملک بھر میں خواتین کو 10 ملین (ایک کروڑ) مفت سم کارڈز بھی تقسیم کیے ہیں تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت میں سرگرم حصہ دار بن سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خواتین کے پاس سستا انٹرنیٹ، ڈیجیٹل مہارت یا آن لائن ہراساں کیے جانے سے تحفظ نہ ہو تو ٹیکنالوجی عدم مساوات کو گہرا بھی کر سکتی ہے، اس لیے مشین لرننگ ماڈلز اور اے آئی الگورتھم میں خواتین کے تجربات کی عکاسی ہونی چاہیے تاکہ ان کی محرومی کو روکا جا سکے۔

پاکستانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر آئی ٹی نے محترمہ فاطمہ جناح، سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید، بیگم کلثوم نواز اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ان کی جرات اور ترقیاتی قیادت پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے او آئی سی کے برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خواتین کی حوصلہ افزائی کریں جو ٹیکنالوجی میں رکاوٹوں کو توڑ رہی ہیں، اور عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے عملی شراکت داری قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔