پاکستانی نوجوانوں کی ڈیجیٹل و کاروباری ترقی کے لیے بڑا قدم: وزیراعظم یوتھ پروگرام، ایزمر اور کاروٹ سسٹمز کے درمیان معاہدے پر دستخط

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے بہترین مواقع سے آراستہ کرنے کے لیے ایک اہم پیشرفت کے تحت وزیراعظم یوتھ پروگرام اور معروف اداروں ایزمر و کاروٹ سسٹمز کے کنسورشیم کے درمیان ‘لیٹر آف انٹینٹ’ پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے ہیں۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، اس شراکت داری کا باضابطہ معاہدہ وزیراعظم آفس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران ہوا، جس میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور کنسورشیم کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔

اس سٹریٹجک شراکت داری کا بنیادی مقصد ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی ترقی، آئی ٹی لٹریسی، تکنیکی ہنرمندی، کاروباری صلاحیتوں ، اور اخلاقی و کردار سازی کے جدید اور وسیع تر مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ انہیں مستقبل کے عالمی و قومی تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

معاہدے میں شامل ادارہ ‘ایزمر’ تنظیمی اخلاقیات، کیپیسٹی بلڈنگ، ہنرمندی کی ترقی اور اینٹراپرینیورشپ ٹریننگ میں مہارت رکھتا ہے، جبکہ ‘کاروٹ سسٹمز’ آئی ٹی کنسلٹنگ، ڈیجیٹل ایجوکیشن، اور کمپیوٹر لٹریسی کے میدان میں معروف ادارہ ہے۔ یہ دونوں ادارے مل کر پاکستانی نوجوانوں کی بااختیاری کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ساتھ مل کر مختلف منصوبے شروع کریں گے۔

اس مشترکہ فریم ورک کے تحت اساتذہ اور طلبہ کی جدید ترین تربیت، کیریئر کونسلنگ، ڈیجیٹل لرننگ، صحت و ماحولیاتی آگاہی اور تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید ترین ٹریننگ سیشنز اور پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔

تقریب کے دوران چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور کنسورشیم کے عہدیداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام فریقین مل کر ایسے بامقصد اور نتیجہ خیز اقدامات کو فروغ دیں گے جو پاکستان کی یوتھ کو ہنرمند، باصلاحیت، ذمہ دار اور روزگار کے قابل بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور گوگل کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے، ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور عالمی ٹیکنالوجی ادارے گوگل کے درمیان ایک اہم مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے ہیں۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد 2030ء تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر کے حجم تک پہنچانا ہے۔

وزیرِ اعظم آفس میں منعقدہ اس پروقار تقریب کی صدارت وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کی، جبکہ وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، اور گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد نے بھی شرکت کی۔ معاہدے پر سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان اور گوگل سائوتھ و سائوتھ ایسٹ ایشیا پبلک پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ ویلر نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے نوجوانوں کو بااختیار بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور نوجوان نسل ملک کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔

معاہدے کے تحت گوگل 2026ء میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرے گا تاکہ وہ جدید ترین تکنیکی مہارتیں حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ طلبا کے لیے گوگل پلس اور جیمینائی نوٹ بک تک ایک سال کی مفت رسائی کے امکانات پر کام کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں ایک خصوصی “اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس” بھی قائم کیا جائے گا، جبکہ کی اصلاحات، زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، گیمنگ اسٹوڈیوز اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

گوگل نے پاکستان میں دفتر قائم کر دیا، کروم بکس برآمد کرنے کا بھی منصوبہ: وزیراعظم شہباز شریف سے گوگل وفد کی ملاقات

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی “گوگل” پاکستانی نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اپنے پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسعت دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں گوگل کے 9 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جس کی قیادت گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کے نائب صدر ولسن وائٹ کر رہے تھے جبکہ امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

وزیرِ اعظم نے وفد کو حکومت کے “ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن اور قومی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں گوگل کے مستقل دفتر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم سے دونوں کے درمیان شراکت داری کو نئی تقویت ملے گی۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، ولسن وائٹ اور نٹالی بیکر نے مشترکہ طور پر پاکستان میں گوگل کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر قائم کردہ کروم بک اسمبلی لائن کی کارکردگی انتہائی شاندار ہے اور یہاں اسمبل ہونے والی کروم بکس کو خطے کے دیگر ممالک میں برآمد کرنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوگل پاکستان کی باصلاحیت یوتھ کے لیے آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور گیمنگ کے شعبوں میں تربیتی پروگراموں کو مزید وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

آسان خدمت مرکز سے شہریوں کے لیے 60 سے زائد سرکاری خدمات ایک ہی چھت تلے فراہم، پاکستان دنیا کے بہترین سائبر سیکیورٹی ممالک میں شامل: شزا فاطمہ خواجہ

منصور احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ‘آسان خدمت مرکز’ کا بنیادی مقصد حکومتی خدمات کو شہریوں کے لیے آسان، تیز اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے ایک ہی چھت تلے مختلف سرکاری اداروں کی 60 سے زائد خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے شہریوں کو مختلف دفاتر کے چکر لگانے اور طویل قطاروں میں کھڑے ہونے سے نجات مل گئی ہے۔

آسان خدمت مرکز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان اور آذربائیجان کے باہمی تعاون سے صرف 90 دنوں کے اندر قائم کیے گئے اس مرکز میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ، نادرا، سی ڈی اے، اسلام آباد پولیس، میونسپل کارپوریشن اور وزارتِ خارجہ کی خدمات دستیاب ہیں۔ مرکز میں شادی اور نکاح کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جہاں حال ہی میں ایک تقریب کا انعقاد کر کے محض نصف گھنٹے کے اندر رجسٹریشن اور شناختی کارڈز کا کام مکمل کیا گیا۔

شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے تحت 39 وفاقی سرکاری محکموں کو پیپر لیس بنایا جا چکا ہے اور ‘ون پیشنٹ، ون آئی ڈی’ نظام کے تحت 42 لاکھ مریضوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ ادویات کی سیریلائزیشن کا پروجیکٹ بھی زیرِ تکمیل ہے جس سے شہری اصلی اور جعلی دوا کی فوری تصدیق کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ روایتی اسٹامپ پیپرز کے مسائل کو ختم کرنے کے لیے ای اسٹامپ کے ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اوورسیز پاکستانیوں کی رائے و شکایات کے لیے بھی آن لائن پلیٹ فارم فعال کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ حکومت کی بنیادی توجہ طریقہ کار کے بجائے شہری مرکزیت پر مبنی طرزِ حکمرانی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل حدود اور ڈیجیٹل خودمختاری بھی ملک کے لیے ایک اہم وجودی معاملہ ہے، اور انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق پاکستان اب دنیا کے اعلیٰ ترین سائبر سیکیورٹی ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے اور ملک اپنے 79ویں یومِ آزادی پر ڈیجیٹل محاذ پر بالکل درست سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

وفاقی حکومت کی بڑی پیش رفت: چار آکوپیشنل گروپس کے 75 فیصد سول سرونٹس کا سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا گیا

کاشف عباسی , August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وفاقی حکومت نے سول سروس میں انسانی وسائل کے انتظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کاغذی ریکارڈ پر انحصار ختم کرنے کے لیے چار اہم آکوپیشنل گروپس سے تعلق رکھنے والے وفاقی سرکاری افسران کا تقریباً 75 فیصد سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہونے والی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کے ذریعے اس پروسیس میں غیر معمولی اور نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایچ آر ایم آئی ایس ایک ویب بیسڈ اور مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ، پولیس سروس آف پاکستان ، آفس مینجمنٹ گروپ اور سیکریٹریٹ گروپ کے افسران کے تمام سروس ریکارڈز کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ کے مطابق، 75 فیصد ڈیٹا کی کامیاب انٹری کے بعد باقی ماندہ ریکارڈ کو بھی ہنگامی بنیادوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ریکارڈ کی سخت جانچ، تصدیق اور درستگی کے مرحلے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ سسٹم میں شامل تمام تر معلومات سو فیصد مستند اور بلا غلطی رہیں۔ اس جدید پلیٹ فارم میں افسران کے ذاتی ڈیٹا، تقرریوں، ترجیحی سنیارٹی، تعلیمی اسناد، تربیت، رخصت کی تفصیلات، پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹس اور سروس ہسٹری کا مکمل ڈیٹا مرتب کیا گیا ہے۔

افسران کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنے لاگ ان کے ذریعے اپنے پورٹل کا خود جائزہ لے سکیں اور اگر کہیں غلطی ہو تو تصحیح کی درخواستیں جمع کروا سکیں، جنہیں چھان بین کے بعد نفاذ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پرانے ریکارڈ کی وجہ سے کام میں کوئی التوا نہیں آ رہا اور تمام تر توجہ ڈیٹا کی مکمل اور مستند انٹری پر مرکوز کی گئی ہے۔

مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ایچ آر ایم آئی ایس وفاقی افسران کی سروس سے متعلق تمام امور بشمول ترقیوں، تبادلوں اور تربیتی مراحل کے لیے واحد مستند اور مرکزی ذریعہ ثابت ہوگا، جس سے گڈ گورننس، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے تاریخی ڈیجیٹل اقدامات کا اعلان: کیو آر کوڈز، موبائل ایپ اور اپوسٹائل سسٹم کے ذریعے سفارتی خدمات کی یکسر ڈیجیٹائزیشن کا حکم

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرونِ ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو ملک کا انتہائی قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انہیں سفارتخانوں اور کونصل خانوں میں تمام ممکنہ آسانیاں اور اعلیٰ ترین سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ کیو آر کوڈ کی مدد سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تمام شکایات کے براہِ راست اندراج اور ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ تمام شہری اس جدید نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سفارتخانوں میں سہولیات کی فراہمی میں اضافے، تمام سرکاری و قانونی دستاویزات کی تصدیقی عمل کی ڈیجیٹائزیشن، شکایت کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں معاشی و دیگر ادائیگیوں کے لیے قائم جدید ڈیجیٹل نظام سے متعلق وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت عون چوہدری، معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کے سفرائے کرام، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے، اور این آئی ٹی بی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی آسانی کے لیے پاور آف اٹارنی، جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات اور اہم دستاویزات کی تصدیق کو آسان بنانے کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ سفارتخانوں میں کیو آر کوڈز کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور خصوصی مہم کے ذریعے اس کی افادیت کو اجاگر کیا جائے۔

بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ عوام الناس اور بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر وزارتِ خارجہ اسلام آباد کے مرکزی دفتر میں حال ہی میں شام کی شفٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ آسان خدمت مرکز اسلام آباد میں بھی دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوریئر سروسز کے ذریعے تصدیقی عمل متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس نظام کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ، انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن ، نادرا اور نیشنل پولیس بیورو کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے تصدیقی مراحل کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اپوسٹائل کنونشن کے تحت دستاویزات کی تصدیق کو ‘ون سٹیپ’ کر دیا گیا ہے اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے برتھ، ڈیتھ، میرج اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی گھر بیٹھے ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہو سکے گی۔