5 اگست 2019ء: کشمیری شناخت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا سیاہ ترین باب، یومِ استحصالِ کشمیر پر خصوصی رپورٹ

کاشف عباسی , August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

پانچ اگست 2019ء کا دن بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی تاریخ میں کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے۔ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے مقبوضہ علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا گیا، جس کے خلاف ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ کشمیریوں کے قومی تشخص اور ان پر جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کروائی جا سکے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کی گئی ایک خصوصی دستاویزی فلم میں 77 سال سے جاری بھارتی بربریت، ریاستی جبر اور کشمیری عوام کے مصائب کو تفصیل کے ساتھ عکاس کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے اب تک اغوا کیے گئے 7,151 افراد میں سے 4,190 کشمیری تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ 2025ء کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران بھارتی فوج کی غیر قانونی حراست میں 113 اور عدالتی حراست کے دوران 1,535 کشمیریوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ علاقے کی معیشت اور انسانی صورتحال انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔ جموں و کشمیر چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ طویل کرفیو اور مواصلاتی بندش کے باعث صرف سیاحت کے شعبے سے وابستہ 44,500 کشمیری بیروزگار ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2 ہزار سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں، جہاں 10 لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوج کو خصوصی اور استثنائی اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت وہ کسی بھی قانونی جواب دہی سے مبرا ہیں۔

خصوصی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی سادہ علاقائی تنازع نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حقِ خودارادیت کا تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔ شدید ترین بھارتی سیکیورٹی پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی قوم ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منا کر 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتی ہے اور کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اپنے مکمل عزم اور یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔

آرٹیکل 370 اور 35 کی منسوخی کے 7 سال: مقبوضہ کشمیر میں امن و ترقی کے بھارتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس نکلے

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں اگست 2019ء کے دوران بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35کی یکطرفہ و غیر قانونی منسوخی کے بعد سے اب تک وادی میں امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق بھارتی حکومت کے تمام تر ادعا اور دعوے مکمل طور پر کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش کردہ ایک جامع رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سات سال کے دوران مقبوضہ خطے کو معاشی تباہی، سیاسی بے چینی اور انسانی حقوق کے شدید ترین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جو نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے آئینی حیثیت کے خاتمے کو وادی کے انضمام اور ترقی کے منصوبے کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم سات سال کے بعد بھی بے روزگاری، شدید عسکریت، جبری نظر بندیاں اور آبادی کی تناسب کو بدلنے کی ناپاک کوششیں عروج پر ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت سیاحوں کی تعداد کو معمول کی زندگی کا ثبوت بنا کر پیش کرتی ہے، تاہم 2019ء کی پابندیوں اور 2025ء کے پہلگام حملے کے بعد وادی کا شعبۂ سیاحت مکمل طور پر سیکورٹی فورسز کے رحم و کرم پر ہے جس سے مقامی ہاتھ کے کاریگر، تاجر اور سیاحت سے وابستہ ہزاروں کشمیری شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ سیب کی صنعت، باغبانی اور درمیانے درجے کے تمام کاروبار نئے ٹیکسوں، متنازعہ زمینی پالیسیوں اور کاروباری بندشوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کا شعبہ مسلسل انٹرنیٹ کی بندش، طویل سیکورٹی پابندیوں اور اساتذہ کی شدید کمی سے متاثر ہے، جس سے پوری وادی کے نوجوان خوف، شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب زمین، ڈومیسائل اور انتظامی قوانین میں جابرانہ ترمیم کے ذریعے مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریتی آبادیاتی ساخت کو ہندو اکثریت میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی ورزی ہے۔ مذہبی قیادت پر پابندیوں اور اسلامی اداروں میں مداخلت نے کشمیریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

جولائی 2026ء میں وادی کے اندر ‘ریاستی حیثیت کی بحالی’ کی تحریک نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت کو ایک بار پھر ایک پیج پر متحد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئینی حقوق کی بحالی، تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سچی جمہوریت کا قیام ہی حل ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ وادی میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب جموں و کشمیر کے تنازع کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات و امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔