یومِ استحصالِ کشمیر, 5 اگست تاریخ کا سیاہ ترین دن، بھارت کشمیریوں کی شناخت کبھی نہیں مٹا سکتا، مشعال حسین ملک

محمود احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور چیئرپرسن پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی آڑ میں بھارت نے اپنے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور آبادیاتی (ڈیموگرافک) حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر کشمیریوں کی منفرد شناخت، تاریخ اور ان کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو کسی طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے جاری کردہ خصوص پیغام میں مشعال حسین ملک نے کہا کہ 5 اگست کشمیریوں کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تہار اور دیگر بھارتی جیلوں میں محصور حریت قیادت بدترین مظالم برداشت کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود آزادی کی تحریک اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹی اور یہ جدوجہد اپنی منزل کے حصول تک مکمل تندہی سے جاری رہے گی۔

انہوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ وادی کے غیور عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی اور پیدائشی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ اور عالمی کردار ادا کریں۔

مشعال حسین ملک نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے غیر متزلزل عوام کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر ان کی مظلوم آواز بنتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں قربانیوں کی بدولت لکھی گئی تحریکِ آزادی کو کوئی جابرانہ طاقت ختم نہیں کر سکتی اور مقبوضہ وادی کے عوام کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لازوال ہے۔

5 اگست 2019ء: کشمیری شناخت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا سیاہ ترین باب، یومِ استحصالِ کشمیر پر خصوصی رپورٹ

کاشف عباسی , August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

پانچ اگست 2019ء کا دن بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی تاریخ میں کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے۔ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے مقبوضہ علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا گیا، جس کے خلاف ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ کشمیریوں کے قومی تشخص اور ان پر جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کروائی جا سکے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کی گئی ایک خصوصی دستاویزی فلم میں 77 سال سے جاری بھارتی بربریت، ریاستی جبر اور کشمیری عوام کے مصائب کو تفصیل کے ساتھ عکاس کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے اب تک اغوا کیے گئے 7,151 افراد میں سے 4,190 کشمیری تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ 2025ء کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران بھارتی فوج کی غیر قانونی حراست میں 113 اور عدالتی حراست کے دوران 1,535 کشمیریوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ علاقے کی معیشت اور انسانی صورتحال انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔ جموں و کشمیر چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ طویل کرفیو اور مواصلاتی بندش کے باعث صرف سیاحت کے شعبے سے وابستہ 44,500 کشمیری بیروزگار ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2 ہزار سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں، جہاں 10 لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوج کو خصوصی اور استثنائی اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت وہ کسی بھی قانونی جواب دہی سے مبرا ہیں۔

خصوصی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی سادہ علاقائی تنازع نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حقِ خودارادیت کا تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔ شدید ترین بھارتی سیکیورٹی پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی قوم ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منا کر 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتی ہے اور کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اپنے مکمل عزم اور یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔