کویت سٹی کے رہائشی کمپلیکس پر ایرانی ڈرون گر گیا، شدید آگ بھڑک اٹھی: کویتی فائر بریگیڈ کا بلڈنگ پر قابو پانے کا اعلان

محمود احمد, September 02,2026

کویت سٹی/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکی اتحاد کے درمیان خطے میں جاری عسکری محاذ آرائی کے تباہ کن اثرات اب خلیجی ممالک کے شہری آبادیوں تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں کویت کے دارالحکومت میں ایک رہائشی کمپلیکس پر ایرانی ڈرون گرنے کے نتیجے میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔

کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے محکمہ فائر بریگیڈ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایرانی ڈرون نے دارالحکومت کویت سٹی میں واقع ایک بڑے رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا جس سے ساہت میں شدید آگ لگ گئی۔ تاہم فائر فائٹرز اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ بدھ کی صبح جنوبی ایران کی حدود میں امریکی جنگی طیاروں کی شدید بمباری اور فضائی حملوں کے ردِعمل میں اس نے خطے کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو ایک ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق ایرانی عسکری فورسز نے اردن، بحرین، کویت اور شمالی عراق کے خود مختار کردی خطے کے دارالحکومت اربیل میں قائم امریکی عسکری اڈوں اور اڈوں پر ایک ہی وقت میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور جدید ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی چار ریاستوں میں قائم امریکی تنصیبات پر ایک ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے اور خلیجی شہروں کی آبادیوں پر اس کے اثرات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اب ایک نا قابلِ کنٹرول اور ہمہ گیر جنگ کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو نیا اور سخت ترین انتباہ: دوبارہ جوابی کارروائی کی تو امریکی ردِعمل ’سخت اور وسیع‘ ہو گا

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری عسکری کشیدگی میں مزید شدّت لاتے ہوئے ایک باضابطہ بیان میں متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران حکومت نے امریکی حملوں کے جواب میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو اس بار واشنگٹن کا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ’سخت اور وسیع‘ ہو گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تند و تیز بیان اس کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے تزویراتی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ منگل کی شب امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کے اہم اہداف پر کیے گئے فضائی حملے مکمل طور پر قانون کے مطابق اور ‘جائز’ تھے۔ انہوں نے تہران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جواب میں ایران نے کوئی بھی عسکری قدم اٹھایا یا امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکہ دوبارہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس سے بڑا حملہ کرے گا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ اعلان کیا تھا کہ وہ اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ حملوں کا بدلہ لیں گے اور اس کا ’سخت‘ جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر ان حملوں کو اس سے قبل خلیج فارس کے جزیرے ‘لارک’ پر ہونے والے امریکی حملوں کا فطری اور دفاعی ردِعمل قرار دیا تھا۔

سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نئے اور انتباہی بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست امریکی و ایرانی تصادم کا دائرہ کار مزید پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔