

محمود احمد, August 09,2026
یروشلم / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء
اسرائیل کی جانب سے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ثابت کرنے کے لیے ایرانی حکام کا جعلی بیان گھڑنے اور دنیا کو گمراہ کرنے کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ممتاز اسرائیلی صحافی رونن برگمین کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی کا ایک من گھڑت بیان تیار کیا گیا جس میں ان سے منسوب کیا گیا کہ ایران ایٹمی بم بنا رہا ہے۔
رونن برگمین کے مطابق یہ جعلی بیان سب سے پہلے بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند اکاؤنٹ سے وائرل کروایا گیا، جس کے بعد اسرائیلی خفیہ ادارے موساد، ایک اسرائیلی ٹی وی چینل، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے اسے دنیا بھر میں پھیلایا تاکہ ایران کے خلاف عالمی رائے عامہ کو بدلا جا سکے۔ اس انکشاف نے اسرائیلی اداروں کے دعوؤں اور بین الاقوامی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی حقیقت کا پول کھول دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی قومی سلامتی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ (جولائی) میں ایران نے خطے کے ایک اہم عرب ملک میں واقع سی آئی اے اور سینٹکام کے انتہائی خفیہ مشترکہ مرکز کو بالکل درست نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
جو کینٹ کے مطابق اس پراسرار اور حساس ٹھکانے سے امریکی افواج کے اہداف اور جاسوسی کے آپریشنز چلائے جاتے تھے، جس کے بارے میں امریکی اتحادیوں کو بھی خبر نہ تھی۔ ایرانی میزائلوں کے اس دقیق حملے کے وقت وہاں سینکڑوں امریکی انٹیلی جنس اہلکار موجود تھے، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں اور اس دہلا دینے والے حملے نے پینٹاگون اور امریکی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا۔
جو کینٹ نے مزید کہا کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے محاذ عالمی طاقتوں کے لیے جدید ہتھیاروں اور ڈرون جنگ کی تجارتی تجربہ گاہیں بن چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کرپشن کیسز میں جیل جانے سے بچنے اور یوکرینی صدر زیلنسکی اپنے اقتدار کو طویل کرنے کے لیے جنگ ختم نہیں ہونے دے رہے۔
سابق ڈائریکٹر نے امریکی سیاسی قیادت کو متنبہ کیا کہ اندرونی معاشی دباؤ اور عدم استحکام کے شکار امریکہ کو اب نیتن یاہو کی بلیک میلنگ سے باہر نکلنا ہوگا، بصورتِ دیگر عالمی و علاقائی تباہی کے اثرات بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔