سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا اچانک ماسکو کا اہم دورہ

محمود احمد, August 25,2026

واشنگٹن/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے روسی اعلیٰ حکام کے ساتھ انتہائی اہم اور اہم نوعیت کی ملاقاتوں کے لیے اچانک اور غیر متوقع طور پر ماسکو کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے “رائٹرز” کے مطابق امریکی انٹیلی جنس چیف کا یہ غیر معمولی دورہ ایک ایسے انتہائی حساس اور نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دوسری جانب روس اور ایران کے درمیان گہرے عسکری، دفاعی، معاشی اور سفارتی تعلقات پہلے سے قائم ہیں۔ یوکرینی انٹیلی جنس اور بین الاقوامی سفارتی ذرائع سے موصول ہونے والی تفصیلی رپورٹس کے مطابق روس اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے باہمی دفاعی نظام، ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عسکری تعاون کے تناظر میں اعلیٰ سطح کے امریکی حکام کا یہ غیر اعلانیہ دورہ عالمی منظر نامے پر کسی نئی اور غیر معمولی پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس اہم دورے اور سیکیورٹی تحرک کے حوالے سے ماسکو اور کرملین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کو کسی بھی قسم کی ناجائز عسکری معاونت کی خبریں درست نہیں ہیں، تاہم روسی حکومت نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران اور تنازع کو پرامن سفارتی راستے سے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے اور مدد فراہم کرنے کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے ترجمان نے جان ریٹکلف کے اس ہنگامی دورۂ ماسکو کی تفصیلات، ملاقاتوں کے ایجنڈے اور مقصد سے متعلق ذرائع ابلاغ کو کسی بھی قسم کا تبصرہ یا بیان دینے سے مکمل طور پر معذرت کی ہے۔ بین الاقوامی سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق نومبر 2021 میں سابق سی آئی اے چیف ولیم برنز کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی تاریخی ملاقات کے بعد کسی بھی امریکی انٹیلی جنس ادارے کے اعلیٰ ترین سربراہ کا ماسکو کا یہ پہلا بڑا، اہم اور اہم ترین دورہ تصور کیا جا رہا ہے جس سے خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

اسرائیل کا ایران کے خلاف جعلی بیان گھڑنے کا انکشاف، جولائی میں امریکی خفیہ ٹھکانے پر ایرانی حملے میں درجنوں ہلاکتیں: جو کینٹ

محمود احمد, August 09,2026

یروشلم / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

اسرائیل کی جانب سے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ثابت کرنے کے لیے ایرانی حکام کا جعلی بیان گھڑنے اور دنیا کو گمراہ کرنے کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ممتاز اسرائیلی صحافی رونن برگمین کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی کا ایک من گھڑت بیان تیار کیا گیا جس میں ان سے منسوب کیا گیا کہ ایران ایٹمی بم بنا رہا ہے۔

رونن برگمین کے مطابق یہ جعلی بیان سب سے پہلے بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند اکاؤنٹ سے وائرل کروایا گیا، جس کے بعد اسرائیلی خفیہ ادارے موساد، ایک اسرائیلی ٹی وی چینل، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے اسے دنیا بھر میں پھیلایا تاکہ ایران کے خلاف عالمی رائے عامہ کو بدلا جا سکے۔ اس انکشاف نے اسرائیلی اداروں کے دعوؤں اور بین الاقوامی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی حقیقت کا پول کھول دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی قومی سلامتی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ (جولائی) میں ایران نے خطے کے ایک اہم عرب ملک میں واقع سی آئی اے اور سینٹکام کے انتہائی خفیہ مشترکہ مرکز کو بالکل درست نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

جو کینٹ کے مطابق اس پراسرار اور حساس ٹھکانے سے امریکی افواج کے اہداف اور جاسوسی کے آپریشنز چلائے جاتے تھے، جس کے بارے میں امریکی اتحادیوں کو بھی خبر نہ تھی۔ ایرانی میزائلوں کے اس دقیق حملے کے وقت وہاں سینکڑوں امریکی انٹیلی جنس اہلکار موجود تھے، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں اور اس دہلا دینے والے حملے نے پینٹاگون اور امریکی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا۔

جو کینٹ نے مزید کہا کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے محاذ عالمی طاقتوں کے لیے جدید ہتھیاروں اور ڈرون جنگ کی تجارتی تجربہ گاہیں بن چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کرپشن کیسز میں جیل جانے سے بچنے اور یوکرینی صدر زیلنسکی اپنے اقتدار کو طویل کرنے کے لیے جنگ ختم نہیں ہونے دے رہے۔

سابق ڈائریکٹر نے امریکی سیاسی قیادت کو متنبہ کیا کہ اندرونی معاشی دباؤ اور عدم استحکام کے شکار امریکہ کو اب نیتن یاہو کی بلیک میلنگ سے باہر نکلنا ہوگا، بصورتِ دیگر عالمی و علاقائی تباہی کے اثرات بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔