فلسطینیوں کی جبرًا جلا وطنی کا منصوبہ ایجنڈے سے خارج نہیں ہوا: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کا متنازع اور اشتعال انگیز دعویٰ

محمود احمد, September 02,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اسرائیل کے انتہائی متنازع اور صیہونی انتہا پسند وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی شہریوں کی جبرًا جلا وطنی اور نقل مکانی کا منصوبہ اسرائیل کے قومی ایجنڈے سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔

عرب نشریاتی اداروں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے شدید سفارتی دباؤ کی وجہ سے فلسطینیوں کو غزہ سے جلا وطن کرنے کے منصوبے کو فی الوقت صرف منجمد کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں ایک عجیب اور بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے تقریباً 80 فیصد فلسطینی خود وہاں سے دوسرے ممالک منتقل ہونا چاہتے ہیں، تاہم حماس غزہ کے عام شہریوں کی نقل مکانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کاٹز نے مزید کہا کہ جو ممالک فلسطینیوں کی اپنے ہاں آباد کاری پر رضامند ہوئے ہیں، انہوں نے اس عمل کو امریکہ کی مالی و سفارتی مدد سے مشروط کر رکھا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جلاوطنی میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

دوسری جانب، خطے میں جاری ایران اور امریکہ-اسرائیل کشیدگی پر بات کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ ان کا ملک آنے والے یہودی تہواروں کے دوران ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ فوجی یا میزائل حملے کا سخت اور بڑے پیمانے پر جواب دینے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی سیکیورٹی سے جڑے واشنگٹن کے مفادات کے پیشِ نظر امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی قیادت کرنے کا موقع دے رہا ہے، تاہم اگر ایران نے اسرائیل کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ان کا ملک کسی بھی امریکی یا بین الاقوامی فریق پر انحصار کیے بغیر آزادانہ طور پر انتہائی مہلک فورس کے ساتھ سخت جواب دے گا۔

سابقہ عسکری پیش رفت پر بات کرتے ہوئے کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ‘آپریشن رائزنگ لائن’ کے دوران ایرانی جوہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا اور تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔