ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو سخت جواب، تنقید کرنے والے حاسد، برے یا احمق قرار

کاشف عباسی ,june 18,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین مؤقف نہ اپنانے کے حوالے سے ہوم گراؤنڈ پر ہونے والی تمام اندرونی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کا بھرپور اور جارحانہ دفاع کیا ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی سیاسی و معاشی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی سٹاک مارکیٹ میں ہونے والے ریکارڈ تاریخی اضافے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کا واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت قرار دیا ہے، تفصیلات کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے ساتھ طے پانے والی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکی انتظامیہ اور بعض کٹر پالیسی سازوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان سوالات کا انتہائی سخت الفاظ میں جواب دیا ہے جس میں ناقدین کا دعویٰ تھا کہ تہران کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ واشنگٹن کے لیے کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے اور امریکہ کو ایران کے خلاف مزید سخت ترین لائن لینی چاہیے تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص اور روایتی جارحانہ انداز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک تند و تیز پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں لکھا کہ ”یہ بیوقوف، جو یہ سمجھتے ہیں کہ میں ایران پر زیادہ سخت ثابت نہیں ہوا، جب کہ میری اس کامیاب پالیسی کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ نے ابھی ابھی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوا ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے گر رہی ہیں، یہ لوگ یا تو حسد کا شکار ہیں، برے لوگ ہیں، یا پھر بالکل ہی احمق ہیں“، امریکی صدر کا سٹریٹجک مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ہونے اور امن معاہدہ نافذ ہوتے ہی امریکی معیشت اور سٹاک مارکیٹ نے پچھلے تمام ریکارڈز پاش پاش کر دیے ہیں کیونکہ اس معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے اور تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امید پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکسر نیچے آ گئی ہیں جس کا براہِ راست فائدہ امریکی اور عالمی صارفین کو پہنچ رہا ہے لہٰذا معاشی ترقی پر تنقید کرنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔