

محمود احمد, August 26,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں اچانک آتشزدگی کا انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں وارڈ میں داخل 14 نومولود بچے مکمل طور پر جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر نے نومولود بچوں کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پمز ہسپتال کی مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں شام چھ بج کر 45 منٹ پر لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بھڑکنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور فائر برگیڈ کی چھ گاڑیوں اور چار ایمبولینسوں نے موقع پر پہنچ کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور آگ پر قابو پانے کے بعد دیگر بچوں کو آئی سی یو میں منتقل کیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے ابتدائی بیان میں ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل کا کہنا تھا کہ آگ نرسری کے ایئر کنڈیشنر یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور وارڈ میں موجود آکسیجن کی پائپ لائنز کے باعث منٹوں میں تیز رفتاری سے بھڑک اٹھی۔ حادثے کے وقت نرسری اور وارڈ میں مجموعی طور پر 15 بچے زیرِ علاج تھے۔ واقعے کی خبر ملتے ہی چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو سیل کر دیا گیا۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے اس دردناک حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نومولود بچوں کا یوں ہلاک ہونا ایک ناقابلِ تلافی اور انتہائی المناک صدمہ ہے، اس لیے واقعے کے تمام محرکات اور مجرمانہ غفلت کا جائزہ لے کر ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔
ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو حادثے کی وجوہات اور سیکیورٹی تدابیر کا جائزہ لے گی۔ دوسری جانب جائے وقوعہ پر شدید غم و غصے کی لہر پھیلی ہوئی ہے اور جاں بحق بچوں کے غمزدہ والدین اور متاثرہ خاندان ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اپنے بچوں کی میتیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ نرسری میں آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ تمام 14 بچے مکمل طور پر جھلس چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت فی الحال ممکن نہیں ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج آنے کے بعد ہی قانونی کارروائی مکمل کر کے لاشیں ورثاء کے حوالے کی جائیں گی تا کہ شناخت میں کوئی غلطی نہ ہو۔