پمز ہسپتال سانحہ: متاثرہ والدین کے سنگین الزامات، عملہ غائب تھا، 9 بچوں کی میتیں حوالے کر دی گئیں

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے سانحے کے بعد متاثرہ والدین نے ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے پر مجرمانہ غفلت اور عدم موجودگی کے شدید اور سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ میڈیا اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آتشزدگی سے متاثرہ ایک خاتون نے رقت انگیز انداز میں بتایا کہ جس وقت نرسری اور وارڈ میں آگ لگی اور دھواں پھیلا، اس وقت ہسپتال کا عملہ بالکل غائب تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے کے وقت صرف وہ اور چند دیگر بچوں کے والدین ہی وہاں موجود تھے جبکہ موقع پر نہ تو کوئی گائنی ڈاکٹر موجود تھی اور نہ ہی نرسنگ سٹاف کا کوئی اہلکار بچوں کی مدد کے لیے وہاں موجود تھا، جس کی وجہ سے نومولود بچوں کو بروقت باہر نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔

دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کے تازہ ترین بیان کے مطابق، جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں سے نو نومولود بچوں کی لاشیں ابتدائی کارروائی کے بعد ان کے لواحقین اور غمزدہ خاندانوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی بچوں کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے لاشوں اور والدین کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروایا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے باوثوق ذرائع نے واقعے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نرسری میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ محض آگ سے جھلسنا نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کے بعد ایئر کنڈیشنر اور آکسیجن پائپ لائن کے باعث وارڈ میں تیزی سے زہریلا دھواں بھر جانا تھا، جس سے نوزائیدہ بچوں کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی والدین کے الزامات کو بھی انکوائری کا حصہ بنا رہی ہے اور غفلت برتنے والے عملے کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی اور محکماتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں خوفناک آتشزدگی: 14 نومولود بچے جاں بحق، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم

محمود احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں اچانک آتشزدگی کا انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں وارڈ میں داخل 14 نومولود بچے مکمل طور پر جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر نے نومولود بچوں کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پمز ہسپتال کی مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں شام چھ بج کر 45 منٹ پر لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بھڑکنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور فائر برگیڈ کی چھ گاڑیوں اور چار ایمبولینسوں نے موقع پر پہنچ کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور آگ پر قابو پانے کے بعد دیگر بچوں کو آئی سی یو میں منتقل کیا۔

ہسپتال انتظامیہ کے ابتدائی بیان میں ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل کا کہنا تھا کہ آگ نرسری کے ایئر کنڈیشنر یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور وارڈ میں موجود آکسیجن کی پائپ لائنز کے باعث منٹوں میں تیز رفتاری سے بھڑک اٹھی۔ حادثے کے وقت نرسری اور وارڈ میں مجموعی طور پر 15 بچے زیرِ علاج تھے۔ واقعے کی خبر ملتے ہی چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو سیل کر دیا گیا۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے اس دردناک حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نومولود بچوں کا یوں ہلاک ہونا ایک ناقابلِ تلافی اور انتہائی المناک صدمہ ہے، اس لیے واقعے کے تمام محرکات اور مجرمانہ غفلت کا جائزہ لے کر ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔

ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو حادثے کی وجوہات اور سیکیورٹی تدابیر کا جائزہ لے گی۔ دوسری جانب جائے وقوعہ پر شدید غم و غصے کی لہر پھیلی ہوئی ہے اور جاں بحق بچوں کے غمزدہ والدین اور متاثرہ خاندان ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اپنے بچوں کی میتیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ نرسری میں آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ تمام 14 بچے مکمل طور پر جھلس چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت فی الحال ممکن نہیں ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج آنے کے بعد ہی قانونی کارروائی مکمل کر کے لاشیں ورثاء کے حوالے کی جائیں گی تا کہ شناخت میں کوئی غلطی نہ ہو۔