پاکستان کی تاریخ فوجی اتحادوں سے بھری پڑی ہے، بیرونی سرپرستی نے ہمیشہ آمریت کو تقویت دی: افراسیاب خٹک

منصور احمد, August 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی غیر ملکی دفاعی یا فوجی معاہدے کا حصہ بننا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ملک ماضی میں بھی مختلف عالمی عسکری بلاکس کا اہم رکن رہ چکا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تحریری بیان میں افراسیاب خٹک نے ملکی خارجہ و دفاعی پالیسی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ماضی میں سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدو ں کا باقاعدہ رکن رہا ہے، جبکہ بعد میں امریکہ کی جانب سے ‘نان نیٹو اتحادی’ کا درجہ بھی حاصل رہا۔ لہٰذا عسکری اتحادوں میں شمولیت پاکستان کی تاریخ میں پہلے بھی متعدد بار دیکھی جا چکی ہے۔

سابق سینیٹر نے تاریخ کے تلخ حقائق اور نتائج پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ماضی کے تمام تجربات اس بات کے گواہ ہیں کہ بیرونی طاقتوں کے تعاون اور عسکری سرپرستی نے پاکستان میں جمہوریت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ہمیشہ غیر جمہوری عناصر اور آمریت کو تقویت بخشی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض بیرونی امداد یا دفاعی معاہدے کسی بھی ملک کے عوام کو حقیقی طور پر بااختیار نہیں بنا سکتے۔ ریاست کے پائیدار استحکام اور عوام کو سیاسی اختیار دینے کے لیے ملک کے اندرونی جمہوری نظام کا مضبوط ہونا اور آئین و قانون کی پاسداری ہونا بنیادی شرط ہے۔

افراسیاب خٹک نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان میں عوامی اختیار اور حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے قانون کی حکمرانی، آزادانہ احتساب اور اداروں کی آئینی حدود میں کارکردگی ہی واحد راستہ ہے، جس سے ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔