نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی آئندہ سفارتی سرگرمیوں، اعلیٰ سطح کے متوقع دوروں اور خطے و بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران بالخصوص ناروے کے وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے آنے والے اہم دورے کی تیاریوں اور انتظامات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ آنے والی تمام سفارتی سرگرمیوں اور مذاکرات سے ملک کے لیے مثبت اور ٹھوس نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ شعبے موثر رابطہ کاری اور بھرپور تیاری کریں۔
اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور پاکستان کی عالمی و علاقائی سفارتی حکمتِ عملی سے متعلق نائب وزیراعظم کو بریفنگ دی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک اور نازک صورتِ حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور شدت اختیار کرتے ہوئے انسانی بحران پر عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے فوری و سخت عملی اقدامات کا مطالبات کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اہم اور ہنگامی اجلاس کے دوران اپنے مفصل اور جامع خطاب میں پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی جانب سے کونسل کو فراہم کی گئی بریفنگز محض لفظی کارروائی یا کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ فوری اور عملی اقدامات کا بین الاقوامی تقاضا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزة میں پیش آنے والے واقعات کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک طے شدہ، باہم مربوط اور دہائیوں پر محیط غاصبانہ قبضے کا نتیجہ ہیں جس کا بنیادی مقصد دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو یکسر اور ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع بالخصوص ‘کرمسن تھریڈ’ منصوبے اور ای ون علاقے میں آبادکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں 1967ء کے بعد سے فلسطین میں بے دخلی کا سب سے بڑا بحران جنم لے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے زمینوں کی رجسٹریشن اور انتظامی اختیارات پر ناجائز قبضہ درحقیقت عملاً الحاق کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے جو سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کی واضح مشاورتی آراء کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے ٹیکس اور ریونیو کے اربوں روپے کی مسلسل روک تھام فلسطینی اداروں کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی ایک منظم سازش ہے، لہٰذا یہ رقم بغیر کسی تاخیر کے فوری اور مکمل طور پر جاری کی جانی چاہیے۔
مسجدِ اقصیٰ اور الحرم الشریف کی مقدس صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس ترین جگہ پر مسلسل دھاوے اور اشتعال انگیز کارروائیاں پورے خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ انہوں نے 24 جولائی اور 6 اگست کو پاکستان سمیت آٹھ اہم عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تر اقدامات طاقت کے زور پر ایک نئی جغرافیائی صورتحال مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔
غزہ کی انسانی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 نے انسانی تکالیف کو کم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل فوجی کشیدگی اور روڈ میپ کو مسترد کرنا عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے جاری مسلسل سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے واضح مطالبات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض طاقت اسرائیل تمام تر غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر روکے اور بین الاقوامی قوانین بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر مکمل عمل پیرا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو فی الفور بند کرایا جائے اور جرم کے مرتکب افراد کا کڑا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی صدر کے مطالبے کے مطابق فلسطینی عوام کو عالمی تحفظ فراہم کرنے اور بچوں کی حفاظت سے متعلق یونیسیف کی سفارشات پر فوراً عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے اور تمام اشتعال انگیز اقدامات کو فوری روکا جائے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2803 اور جامع امن منصوبے پر بغیر کسی حیل و حجت کے مکمل اور نیک نیتی سے عمل درآمد کرایا جائے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا سختی سے سدباب کیا جائے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے انتباہ جاری کیا کہ اگر اسرائیل کی ان جارحانہ پالیسیوں کی سمت کو فوری نہ بدلا گیا تو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ممبر یورپین پارلیمنٹ اوندرے دوستال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ایوانوں کے درمیان پارلیمانی روابط اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی نے قانون سازی، پارلیمانی اصلاحات اور عوامی فلاح کے امور پر نمایاں پیشرفت کی ہے، جبکہ خواتین و بچوں کے حقوق اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے خصوصی کاکس اور سیکرٹریٹ فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصہ رکھنے کے باوجود عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی کا ‘گرین پارلیمنٹ منصوبہ’ ماحولیاتی تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کا عملی ثبوت ہے۔
سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ پنجاب میں اساتذہ کی تربیت، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں اصلاحات قابلِ تحسین ہیں۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت موجود ہے جس سے یورپی یونین تعلیمی اور روزگار کے شعبوں میں استفادہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا بھر میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، جیسا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا ثالثی کا کردار اس عزم کی روشن مثال ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کے رکن اوندرے دوستال نے علاقائی امن، پارلیمانی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے قدرتی حسن کی بھی تعریف کی۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی غیر ملکی دفاعی یا فوجی معاہدے کا حصہ بننا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ملک ماضی میں بھی مختلف عالمی عسکری بلاکس کا اہم رکن رہ چکا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تحریری بیان میں افراسیاب خٹک نے ملکی خارجہ و دفاعی پالیسی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ماضی میں سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدو ں کا باقاعدہ رکن رہا ہے، جبکہ بعد میں امریکہ کی جانب سے ‘نان نیٹو اتحادی’ کا درجہ بھی حاصل رہا۔ لہٰذا عسکری اتحادوں میں شمولیت پاکستان کی تاریخ میں پہلے بھی متعدد بار دیکھی جا چکی ہے۔
سابق سینیٹر نے تاریخ کے تلخ حقائق اور نتائج پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ماضی کے تمام تجربات اس بات کے گواہ ہیں کہ بیرونی طاقتوں کے تعاون اور عسکری سرپرستی نے پاکستان میں جمہوریت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ہمیشہ غیر جمہوری عناصر اور آمریت کو تقویت بخشی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض بیرونی امداد یا دفاعی معاہدے کسی بھی ملک کے عوام کو حقیقی طور پر بااختیار نہیں بنا سکتے۔ ریاست کے پائیدار استحکام اور عوام کو سیاسی اختیار دینے کے لیے ملک کے اندرونی جمہوری نظام کا مضبوط ہونا اور آئین و قانون کی پاسداری ہونا بنیادی شرط ہے۔
افراسیاب خٹک نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان میں عوامی اختیار اور حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے قانون کی حکمرانی، آزادانہ احتساب اور اداروں کی آئینی حدود میں کارکردگی ہی واحد راستہ ہے، جس سے ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں بنیادی و ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق جاری بین الحکومتی مذاکرات کے عمل کو آئندہ ستمبر میں شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا اہم، متفقہ اور حتمی فیصلہ صادر کر لیا ہے۔ پاکستان نے جنرل اسمبلی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اصلاحاتی عمل اور بین الحکومتی مذاکرات کو 15 رکنی سلامتی کونسل کو دنیا بھر کی زیادہ سے زیادہ اقوام کے لیے مؤثر، جمہوری اور حقیقی معنوں میں نمائندہ بنانے کے لیے “واحد بااعتماد اور جائز فورم” قرار دیا ہے اور تمام ارکان پر اپنے شدید ترین سیاسی اختلافات کو کم سے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نو تعینات یا مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے اپنا اہم خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا اصلاحاتی عمل اقوامِ متحدہ کے سامنے درپیش انتہائی اہم ترین اور حساس ادارہ جاتی اقدامات میں سے ایک ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بغیر کسی ووٹنگ کے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر 2026ء سے شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران اصلاحاتی بات چیت کا یہ عمل باقاعدگی سے جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ اصلاحات اور مذاکرات کا یہ عمل اب اپنے 18 ویں سال میں باقاعدہ داخل ہو چکا ہے، جس کے دوران 17 طویل ادوار مکمل ہونے کے باوجود اصلاحات سے متعلق کئی بنیادی پہلوؤں پر تاحال کامل اتفاقِ رائے حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام پانچ بنیادی شعبوں بشمول رکنیت کے زمرے، ویٹو کا طریقہ کار و استعمال، علاقائی متناسب نمائندگی، توسیع شدہ سلامتی کونسل کا حتمی سائز اور جنرل اسمبلی کے ساتھ کونسل کے تعلقات پر گہرا تبادلہِ خیال جاری ہے۔ اس وقت سلامتی کونسل 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے، جن میں تبدیلی اور توسیع پر مختلف ممالک کے واضح اور برعکس گروپس بنے ہوئے ہیں۔
اصلاحات کے اس عمل میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل ‘گروپ آف فور’ سلامتی کونسل میں اپنے لیے نئی مستقل نشستوں کے حصول کا مطالبہ کرتے ہوئے کل 10 نئی نشستیں چاہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اٹلی اور پاکستان کی بھرپور قیادت میں فعال ‘یونائٹنگ فار کنسنسس’ گروپ نے کسی بھی ملک کو اضافی مستقل نشستیں دینے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے اور طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی ایسی نئی غیر مستقل نشستوں کا حل تجویز کیا ہے جن پر جمہوری طریقے سے دوبارہ انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ اصلاحات کا مقصد خودمختار مساوات، جمہوریت اور احتساب ہونا چاہیے، نہ کہ ایک قسم کی اجارہ داری کو ختم کر کے دوسری قسم کی خصوصی مراعات پر مبنی اجارہ داری قائم کرنا۔ انہوں نے مذاکراتی شریک سربراہان (کویت اور نیدرلینڈز) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے حتمی عزم دہرایا کہ پاکستان “سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں” کے رہنما اصول پر قائم رہے گا۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معزز عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے ایک اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ منگل کے روز وزارتِ خارجہ سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، ملاقات میں عالمی و علاقائی سلامتی، کثیر الجہتی تعاون اور اقوامِ متحدہ کے مستقبل کے ڈھانچے پر تزویراتی تبادلہ خیال کیا گیا۔
موقر ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے فروغ، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کے لیے پاکستان کے دیرینہ اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس عالمی ادارے کو اب ترقی پذیر ممالک کی مخصوص ضروریات، معاشی مسائل اور ترجیحات کے مطابق خود کو مؤثر اور جوابدہ بنانا ہوگا۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے پائیدار عالمی امن کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق مکمل اور دیانتدارانہ عمل درآمد پر زور دیا، تاکہ دیرینہ بین الاقوامی تنازعات کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے عالمی رہنما کے سامنے بالخصوص جموں و کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسائل کے منصفانہ، پائیدار اور فوری حل کی اہمیت کو مقتدر انداز میں اجاگر کیا۔
سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے خطے میں امن و استحکام کے پائیدار فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر عالمی اقدامات کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کی گراں قدر خدمات، قربانیوں اور نمایاں ترین کردار کی بھرپور تعریف کی اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا۔