

روزینہ اسماعیل, JULY 15,2026
کنشاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء
عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں مہلک ایبولا وائرس کے 80 فیصد نئے کیسز ایسے پراسرار ذرائع سے سامنے آ رہے ہیں جن کی منتقلی کا سلسلہ معلوم کرنا تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔ مقتدر طبی ماہرین کے مطابق، یہ تشویشناک صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہلک ترین بیماری صحت کے حکام کی نگرانی اور رسائی سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، جو خطے کے لیے ایک بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کے مطابق، عالمی ادارہ صحت نے تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں گزشتہ مئی سے ایبولا وائرس کی ایک انتہائی نایاب اور خطرناک قسم کی وبا پھیلی ہوئی ہے، جس کے تدارک کے لیے فی الحال دنیا میں کوئی بھی منظور شدہ سائنسی علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے بھی اس بحران کی سنگینی کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اب تک افریقی براعظم میں ریکارڈ کی جانے والی ایبولا کی تیز ترین اور بدترین ترین وبا بن چکی ہے۔
سرکاری سطح پر جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کانگو میں اب تک ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2,011 ہو چکی ہے، جبکہ اس موذی وائرس کے باعث اب تک 754 افراد اپنی قیمتی جانیں ہار چکے ہیں۔ ملک کے قومی ادارہ صحت نے اپنی تازہ ترین مقتدر رپورٹ میں تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ صرف پیر کے روز اتوری ، شمالی کیوو اور اوت-اوئیلے کے صوبوں میں مزید 54 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس نے مقامی طبی نظام کی کمزوریوں اور اس وبا کی ہولناکی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔