

روزینہ اسماعیل, August 09,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء
دنیا بھر میں ذیابیطس (شوگر) کا مرض خطرناک حد تک پھیل چکا ہے اور اس وقت عالمی سطح پر تقریباً 58 کروڑ 90 لاکھ (589 ملین) بالغ افراد اس بیماری کا شکار ہیں، جبکہ 25 کروڑ 20 لاکھ (252 ملین) افراد ایسے ہیں جو ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی اس طبی حالت سے مکمل بے خبر ہیں۔
معروف طبی ماہر ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی ایک تحریری تجزیاتی رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کی جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں موٹاپا، پری ذیابیطس ، ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، نان الکوحلک فیٹی لیور اور دل کے امراض ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ذیابیطس کی شرح عالمی سطح پر بلند ترین حدود کو چھو رہی ہے۔ پاکستان میں شوگر کے مرض میں اس تیزی سے اضافے کی بنیادی وجوہات غیر متوازن اور پروسیسڈ غذاؤں کا استعمال، جسمانی سرگرمیوں اور ورزش کی شدید کمی، موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی ہیں۔
ڈاکٹر سکندر اقبال کا کہنا تھا کہ صرف ادویات کے سہارے اس خاموش قاتل بیماری پر قابو پانا ناممکن ہے، جب تک کہ طرزِ زندگی میں بنیادی تبدیلیاں نہ لائی جائیں۔ انہوں نے جدید طبی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ شوگر کی روک تھام اور بہتر شوگر لیول برقرار رکھنے کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ صحت مند لائف اسٹائل اپنانا ناگزیر ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر اس وقت عالمی سطح پر ‘انٹرمٹنٹ فاسٹنگ’ وقتاً فوقتاً فاقہ یا روزے کا طریقہ) کا رجحان اور مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو ذیابیطس کے کنٹرول اور موٹاپے کے خاتمے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔



