

محمود احمد, JULY 11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء
امریکا نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر سیاسی مفادات حاصل کرنے کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر اٹھا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ اسٹکنی نے افغان رجیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان اب بھی غیر ملکی شہریوں کو ”یرغمال بنانے کی پالیسی“ پر عمل پیرا ہیں، جو کہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان اس “ہوسٹیج ٹیکنگ پالیسی” کے تحت قید تمام بے قصور امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کریں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے مطابق، افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کے اہم ترین قومی مفادات میں شامل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ الزبتھ اسٹکنی نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے دورِ حکومت میں خواتین کے حقوق کی صورتحال انتہائی خوفناک ہے، لہٰذا طالبان رجیم خواتین اور معصوم بچیوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے۔
عالمی مبصرین اور ماہرین کے مطابق، افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر انہیں سیاسی دباؤ اور تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی منافی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندی، دہشت گردوں کی مبینہ سرپرستی اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں نے اسے دنیا بھر میں شدید سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے انہیں اپنے مقتدر رویوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔