یوکرین تنازع میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات بحال کریں، اقوامِ متحدہ میں چین کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 11,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگی شدت میں کمی لائیں اور جلد از جلد امن مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں۔ چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اور تزویراتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سن لی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں دونوں فریقوں کی جانب سے زیادہ شدت اور بڑے دائرۂ کار میں فوجی حملے کیے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا زیاں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

چینی مندوب نے واضح کیا کہ چین شہریوں اور سویلین تنصیبات پر ہونے والے ہر قسم کے حملوں کی مقتدر الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے حملے بند کریں۔ انہوں نے واشگاف کیا کہ حالیہ دنوں میں فریقین فوجی محاذ آرائی اور جوابی کارروائیوں کے ایک خطرناک چکر میں پھنس چکے ہیں، جس سے نہ صرف عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ نفرت اور کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث امن مذاکرات کی راہ مزید دشوار بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں۔

سن لی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فریقین کو سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد از جلد مذاکرات بحال کرنے چاہییں اور ایک جامع، دیرپا اور قابلِ عمل امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چونکہ دونوں فریقوں کو اپنے اپنے سکیورٹی خدشات لاحق ہیں، اس لیے اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق ایک ایسا مشترکہ تزویراتی حل تلاش کیا جانا چاہیے جو دونوں جانب کے سکیورٹی مفادات کا احترام کرے اور خطے میں متوازن، مؤثر اور پائیدار سکیورٹی نظام کے قیام کو یقینی بنائے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ چین یوکرین بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنے غیر جانبدار اور منصفانہ مؤقف پر قائم ہے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اس بحران کے جلد حل کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

امریکا کا افغان طالبان کی ‘یرغمال بنانے کی پالیسی’ پر شدید تشویش کا اظہار، تمام بے قصور امریکی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

امریکا نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر سیاسی مفادات حاصل کرنے کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر اٹھا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ اسٹکنی نے افغان رجیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان اب بھی غیر ملکی شہریوں کو ”یرغمال بنانے کی پالیسی“ پر عمل پیرا ہیں، جو کہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان اس “ہوسٹیج ٹیکنگ پالیسی” کے تحت قید تمام بے قصور امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کریں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے مطابق، افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کے اہم ترین قومی مفادات میں شامل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ الزبتھ اسٹکنی نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے دورِ حکومت میں خواتین کے حقوق کی صورتحال انتہائی خوفناک ہے، لہٰذا طالبان رجیم خواتین اور معصوم بچیوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے۔

عالمی مبصرین اور ماہرین کے مطابق، افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر انہیں سیاسی دباؤ اور تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی منافی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندی، دہشت گردوں کی مبینہ سرپرستی اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں نے اسے دنیا بھر میں شدید سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے انہیں اپنے مقتدر رویوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

اسلام آباد میں او آئی سی کی خواتین سے متعلق 9 ویں وزارتی کانفرنس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انتظامات کا جائزہ لیا

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 12 اور 13 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق 9 ویں وزارتی کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کی ہے۔ جمعہ کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس کے دوران اس بین الاقوامی کانفرنس کے پروقار انعقاد کے لیے حتمی تیاریوں کا تفصیلی اور تزویراتی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران سیکرٹری انسانی حقوق نے کانفرنس کے مجموعی پروگرام، غیر ملکی وفود کی سہولت، سفارتی پروٹوکول، فول پروف سکیورٹی، لاجسٹکس، میڈیا انتظامات اور بین الوزارتی مؤثر رابطہ کاری سے متعلق کیے گئے انتظامات پر ایک جامع بریفنگ دی، تاکہ کانفرنس کا انعقاد مکمل خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔ نائب وزیرِاعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے متعلقہ کونسل اور حکام کی محنت اور کاوشوں کو مقتدر الفاظ میں سراہتے ہوئے خصوصی ہدایت کی کہ دنیا بھر سے اس اہم کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے معزز وفود کے قیام کو ہر ممکن حد تک آرام دہ اور خوشگوار بنایا جائے اور انہیں روایتی پاکستانی مہمان نوازی کے مطابق بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

اس اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف، وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری انسانی حقوق اور متعلقہ وزارتوں کے دیگر سینئر اور مقتدر حکام نے بھی شرکت کی اور انتظامات کو فول پروف بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔