

محمود احمد, JULY 22,2026
اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روکنے اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکرٹری جنرل بالخصوص ایران میں اہم شہری اور بنیادی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر شدید مضطرب ہیں، جن میں زیرِ تعمیر ایٹمی بجلی گھر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے اہم پلانٹس شامل ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ خطے کے کسی بھی حصے میں بجلی گھروں اور پانی کی فراہمی جیسے عوامی منصوبوں پر حملے بالکل نا قابلِ قبول ہیں اور ان کا سلسلہ فوراً بند ہونا چاہیے۔
ترجمان کے مطابق، ہسپتالوں، پینے کے پانی کے فراہمی کے نظام اور بنیادی انسانی ضروریات کی تنصیبات کا ہر صورت تحفظ کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری جنرل نے جنگ میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور عام شہریوں کی حفاظت کے بنیادی اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔
اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس فوجی بحران کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک پھیل رہے ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت، انسانی امداد کی نقل و حمل، بحری جہاز رانی کے اخراجات اور ایندھن سمیت روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی بھی ملٹری یا فوجی حل موجود نہیں ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی و سفارتی کاوشوں کو آگے بڑھانا ہی واحد راستہ ہے۔