امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر مزید حملے روکنے کا حکم؛ 13 دن سے جاری روزانہ کی ملٹری کارروائیاں معطل

محمود احمد, JULY 25,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز فوج کو ایران میں فی الوقت کوئی نیا حملہ نہ کرنے کا باضابطہ حکم جاری کیا ہے، جس کے بعد پچھلے دو ہفتوں سے ایران پر جاری روزانہ کی امریکی بمباری کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ 13 دنوں سے ایران کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر فوجی کارروائیوں کی منظوری دے رہے تھے، تاہم ان کا نیا حکم سامنے آنے کے بعد یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ عارضی وقفہ ہے یا کوئی مستقل جنگ بندی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ دوبارہ کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج فوری طور پر متحرک ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور فوج اب بھی بڑے پیمانے پر ممکنہ جنگی عملیات کے لیے متحرک اور تیار حالت میں ہے۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت اور خبر کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کی گہری تشویش؛ فوری جنگ بندی کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روکنے اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکرٹری جنرل بالخصوص ایران میں اہم شہری اور بنیادی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر شدید مضطرب ہیں، جن میں زیرِ تعمیر ایٹمی بجلی گھر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے اہم پلانٹس شامل ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ خطے کے کسی بھی حصے میں بجلی گھروں اور پانی کی فراہمی جیسے عوامی منصوبوں پر حملے بالکل نا قابلِ قبول ہیں اور ان کا سلسلہ فوراً بند ہونا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق، ہسپتالوں، پینے کے پانی کے فراہمی کے نظام اور بنیادی انسانی ضروریات کی تنصیبات کا ہر صورت تحفظ کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری جنرل نے جنگ میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور عام شہریوں کی حفاظت کے بنیادی اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس فوجی بحران کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک پھیل رہے ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت، انسانی امداد کی نقل و حمل، بحری جہاز رانی کے اخراجات اور ایندھن سمیت روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی بھی ملٹری یا فوجی حل موجود نہیں ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی و سفارتی کاوشوں کو آگے بڑھانا ہی واحد راستہ ہے۔

زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ؛ خطے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے، ایران کا مقتدر انتباہ

محمود احمد, JULY 20,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر حالیہ امریکی حملے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن کو ایک مقتدر اور تزویراتی انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس جارحیت اور عدم استحکام کے نتیجے میں خطے میں پیدا ہونے والی انتہائی سنگین صورتحال کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، کاظم غریب آبادی نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ دراصل ایران کے توانائی کے پُرامن انفراسٹرکچر پر ایک انتہائی خطرناک اور بلاجواز حملہ ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی بدامنی کے اسباب صرف اور صرف امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ تہران اس ننگی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اپنے قومی مفادات، سالمیت اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اور مناسب تزویراتی اقدامات اٹھانے کا مکمل قانونی و ریاستی حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے گزشتہ روز اپنے ایک مقتدر اعلامیے میں اعلان کیا تھا کہ اس نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر ہونے والے مبینہ امریکی حملے کی رپورٹس کا باقاعدہ اور تادیبی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے کی جانب سے جاری بیان میں زمینی حقائق واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ جوہری تنصیب ابھی تعمیر کے بالکل ابتدائی مراحل میں ہے اور ایجنسی کے آخری معائنے کے وقت وہاں کوئی بھی جوہری مواد سرے سے موجود نہیں تھا۔ ادارے نے عالمی برادری کو اطمینان دلایا ہے کہ اس مبینہ حملے سے کسی بھی قسم کی تابکاری پھیلنے کا کوئی امکان یا خطرہ نہیں ہے۔ دریں اثنا، آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رفائیل ماریانو گروسی نے تمام فریقین سے اپنی اس اپیل کا سختی سے اعادہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں تمام جوہری تنصیبات کے قرب و جوار میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائیوں سے مکمل گریز کیا جائے اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔