

محمود احمد june 17,2026
واشنگٹن/نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء
امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے بحر الکاہل (پیسیفک) کے اسٹریٹجک خطے میں قائم اپنی سب سے بڑی اور اہم ترین عسکری کمان کا نام ایک بار پھر تبدیل کیے جانے کے غیر معمولی فیصلے نے پڑوسی ملک انڈیا کے دفاعی اور سیاسی ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے اور نئی دہلی میں اس معاملے پر شدید خدشات اور بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سنہ ۲۰۱۸ء میں اپنے پہلے دورِ حکومت کے دوران اس فوجی کمان کا نام تبدیل کر کے ”انڈو پیسیفک کمانڈ“ رکھا تھا جس کا مقصد نئی دہلی کو عالمی سطح پر بڑی اہمیت دینا تھا، تاہم اب ٹھیک آٹھ سال بعد امریکی حکومت نے اس نام سے ”انڈو“ کا لفظ مکمل طور پر خارج کرتے ہوئے اس کا پرانا نام یعنی ”یو ایس پیسیفک کمانڈ“ باضابطہ طور پر بحال کر دیا ہے، اگرچہ واشنگٹن کے بقول اس کمان کا پرانا نام بحال کرنے کا واحد مقصد اس کے ستر سالہ تاریخی ورثے کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرنا ہے لیکن اس اچانک فیصلے پر انڈین دفاعی ماہرین اور میڈیا میں یہ گہرے تحفظات اور خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں کہ آیا دفاعی تعاون اور چین کا راستہ روکنے کے شعبے میں امریکہ نے اب انڈیا سے دوریاں اختیار کرنا شروع کر دی ہیں اور خطے میں اس کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
اس سنسنی خیز دفاعی تبدیلی کے ساتھ ہی انڈین میڈیا میں اس حوالے سے بھی شدید واویلا مچایا جا رہا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کی ازسرِنو تشکیل کے بعد اس کے زیرِ اثر علاقوں کے حوالے سے جو سرکاری اور عسکری نقشہ جاری کیا گیا ہے اس میں پینٹاگون نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو باقاعدہ طور پر پاکستان کا ہی حصہ ظاہر کیا ہے، اگرچہ اس امریکی فوجی نقشے میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو بھی انڈیا کے حصے کے طور پر ہی دکھایا گیا ہے لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو گرین زون میں دکھانا نئی دہلی کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، دوسری جانب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اس نام کی تبدیلی کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ عظیم عسکری کمانڈ ستر برس قبل امریکی صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی جو کہ امریکہ کی تمام مشترکہ جنگی کمانڈز میں سب سے قدیم اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے، محکمۂ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کا نام بحال کرنے کا مقصد اِس کمانڈ کے تاریخی عسکری ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے کیونکہ یہ نام بحرالکاہل میں خدمات انجام دینے والے تمام امریکی فوجیوں میں فخر اور اجتماعی جذبے کو فروغ دیتا ہے۔
امریکی پینٹاگون کے جاری کردہ وضاحتی بیان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد علاقائی سکیورٹی کے مضبوط ڈھانچے کے قیام میں اس کمانڈ کے اہم ترین کردار سے لے کر کورین جنگ، ویتنام جنگ اور بے شمار انسانی ہمدردی پر مبنی بین الاقوامی کارروائیوں میں مشترکہ افواج کی بہترین ہم آہنگی تک یو ایس پیسیفک کمانڈ کا یہ تاریخی نام دہائیوں پر مشتمل عسکری ورثے اور دیرپا علاقائی شراکت داریوں کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے، پیسیفک کمانڈ کی کلیدی ذمہ داریوں اور اس کی جغرافیائی حدود کے بارے میں محکمۂ دفاع نے واضح کیا کہ امریکہ کے مغربی ساحل کے قریب موجود سمندری پانیوں سے لے کر انڈیا کی مغربی سرحد تک کے تمام تر وسیع ترین علاقے بدستور اسی کمان کے زیرِ اثر اور کنٹرول میں رہیں گے اور اس نام کی تبدیلی کے باوجود اس کے زیرِ اثر علاقوں کی حدود میں کوئی عسکری تبدیلی نہیں کی جا رہی، امریکہ نے انڈیا کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ کمانڈ کا بنیادی مشن اور علاقائی اتحادیوں و شراکت داروں کے ساتھ خطے کو آزاد اور کھلا برقرار رکھنے کے لیے اس کا غیر متزلزل عزم بالکل تبدیل نہیں ہوا، تاہم دفاعی مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ قدم اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب واشنگٹن اپنی خارجہ اور فوجی پالیسی میں انڈیا کو پہلے جیسی غیر معمولی اور زبردستی کی غیر مشروط اہمیت دینے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتا۔