

محمود احمد, September 15,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 15 ستمبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی جانب سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش روکنے کے فیصلے کے بعد اپنے ہی مقرر کردہ سپریم کورٹ ججز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے بیان میں امریکی سپریم کورٹ پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ “ریڈیکل لیفٹ” کے دباؤ اور اثر میں فیصلے کر رہی ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں نے امریکا کو کم از کم 100 سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ ججز وہ لوگ نہیں ہیں جن کا انہوں نے عدالت کے لیے انتخاب کرتے وقت انٹرویو کیا تھا، اور ساتھ ہی انہوں نے ان فیصلوں کو امریکی تاریخ کے انتہائی تباہ کن اور نقصان دہ فیصلوں میں شمار کرنے کی پیش گوئی کی۔
صدر ٹرمپ کی یہ شدّید تنقید امریکی سپریم کورٹ کے اس اہم فیصلے کے فوری بعد سامنے آئی ہے جس میں عدالت نے امریکی پوسٹل سروس کو نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹس پر نئی پابندیاں عائد کرنے والے ضابطے پر عمل درآمد کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت انتظامیہ کے ضابطے کے نفاذ کو روکا گیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجویز کردہ ضابطے کا بنیادی مقصد ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے طریقہ کار کو سخت بنانا تھا، جس کے تحت ریاستوں کو ووٹ بذریعہ ڈاک حاصل کرنے والے ووٹرز کی فہرستیں فراہم کرنا اور مخصوص تقاضوں کے مطابق بیلٹ لفافے استعمال کرنا لازمی تھا، جبکہ قواعد پر پورا نہ اترنے والے بعض بیلٹس کی ترسیل روکنے کا اختیار پوسٹل سروس کو ملنا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے مختصر اور غیر دستخط شدہ حکم میں واضح کیا کہ حکومت کے اس مقدمے میں کامیاب ہونے کے امکانات بادی النظر میں انتہائی کم ہیں۔ اس فیصلے سے نومبر کے انتخابات کے لیے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر مجوزہ نئی پابندیوں کا فوری نفاذ رک گیا ہے، جبکہ جسٹس سیموئل ایلیٹو اور جسٹس کلیرنس تھامس نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران نیل گورسوچ، بریٹ کیوانا اور ایمی کونی بیریٹ کو سپریم کورٹ میں مقرر کیا تھا، جس کے بعد عدالت میں قدامت پسند ججز کی عددی اکثریت قائم ہو گئی تھی، تاہم ٹرمپ اس سے قبل بھی اپنے مقرر کردہ ججز کو اپنے خلاف آنے والے فیصلوں پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
میل بیلٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ امریکی انتخابات کے حوالے سے جاری وسیع تر قانونی اور سیاسی کشمکش کا نیا اور حساس موڑ ہے۔ ایک طرف جہاں ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے سخت ضوابط انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کو روکنے میں مدد دیں گے، وہی ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ نئے قواعد قانونی ووٹرز کے ووٹ کی ترسیل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور ریاستوں کے انتخابی اختیارات کو متاثر کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس حتمی اقدام کے بعد صدر ٹرمپ کی براہِ راست تنقید نے امریکی عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ بین الاقوامی رپورٹ عالمی خبر رساں اداروں کے جاری کردہ بیانات، امریکی سپریم کورٹ کے احکامات اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔
ماخذ: رائٹرز، سپریم کورٹ آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس پریس ڈیسک، اور وائٹ ہاؤس کمیونیکیشن۔