

محمود احمد, August 05,2026
جنیوا (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء
عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی انتہائی خطرناک ‘بُنڈی بُگیو’ قسم کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا کے دوران موثر علاج کی دریافت اور دنیا کی پہلی ویکسین کی تیاری کے لیے سائنسی تحقیق میں تیز رفتار پیش رفت جاری ہے، تاہم اس کے حتمی نتائج سامنے آنے میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
اماراتی نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وبا کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے تحقیقی آزمائشیں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ شروع کی گئیں کیونکہ جامع تحقیقاتی منصوبے وبا کے باضابطہ اعلان سے پہلے ہی تیار کر لیے گئے تھے۔
ڈبلیو ایچ او کے قائمقام سربراہ برائے تحقیق و ترقی ڈاکٹر واسی مورتی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایبولا وائرس کی اس مخصوص بُنڈی بُگیو قسم کے لیے فی الوقت دنیا میں کوئی بھی محفوظ اور موثر علاج یا منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے انکشاف کیا کہ برطانیہ میں 24 جولائی کو پہلے مرحلے کی ویکسین آزمائش کا کامیابی سے آغاز ہو چکا ہے، جبکہ کینیڈا میں بھی آئندہ چند دنوں کے اندر ایک اور ہنگامی کلینیکل ٹرائل شروع کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر واسی مورتی کے مطابق ابتدائی طبی آزمائشیں فیریٹس اور بندروں پر کی جا رہی ہیں، جن سے حاصل ہونے والے نتائج اور ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد عالمی ادارہ صحت انسانوں پر آزمائش اور اگلے مرحلے کا باضابطہ فیصلہ کرے گا۔
عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یکم اگست تک جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی اس جان لیوا وبا کے 3,748 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 1,657 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 708 مریض علاج کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں۔