آبنائے ہرمز میں جنگ کے بادل، امریکہ اور ایران کے درمیان سنگین عسکری و معاشی تصادم، خلیجی ریاستوں کو ایرانی وزیر خارجہ کی کھلی دھمکی، روس کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی بھرپور حمایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

عالمی توانائی کی سب سے اہم شاہراہ، آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں عسکری و سفارتی کشیدگی خطرناک ترین حد تک برقرار ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے مابین الزامات کی بوچھاڑ، جوابی معاشی پابندیوں اور سمندری حدود میں جنگی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تہران اور واشنگٹن سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان ایرانی دعووں کو مخلصانہ طور پر مسترد اور ان کی شدید تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خلیج میں امریکی بحری ڈسٹرائرز پر ایران کی جانب سے ”انتباہی فائرنگ“ کی گئی ہے، سینٹکام کا مؤقف ہے کہ ایسی کوئی کارروائی یا فائرنگ سرے سے ہوئی ہی نہیں اور امریکی بحری افواج بین الاقوامی قوانین کے تحت خطے کے پانیوں میں اپنی معمول کی دفاعی سرگرمیاں پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہیں، دوسری جانب سمندری صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب عمان کی ایک حساس بندرگاہ کے قریب مبینہ دھماکے کے بعد تیل کی لوڈنگ کا عمل عارضی طور پر معطل کرنا پڑا، تاہم بعد میں آئل آپریشنز کو دوبارہ معمول پر لایا گیا، لیکن اس خوفناک پیش رفت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، اسی دوران امریکی بحریہ نے بحرِ ہند میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پابندیوں کے شکار ایک ایسے بڑے بحری ٹینکر کو روکنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے جس پر ایرانی تیل کی غیر قانونی تجارت سے متعلق سنگین الزامات عائد تھے، اس امریکی کارروائی پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت یا مہم جوئی کی گئی تو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والی تمام خلیجی ریاستیں ایران کے لیے ”جائز اہداف“ بن جائیں گی اور انہیں نشانہ بنایا جائے گا، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں ہے اور یہاں طاقت کے توازن کو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کشیدگی کے اس ماحول میں امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل اور ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) کی غیر قانونی تجارت میں مبینہ طور پر ملوث متعدد بااثر افراد، عالمی اداروں اور بحری ٹینکرز پر نئی اور سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ان خفیہ نیٹ ورکس میں مختلف ممالک اور آف شور کمپنیوں کے تانے بانے بھی سامنے آئے ہیں، اس سنگین صورتحال کے سفارتی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس نازک موڑ پر پاکستان کی مخلصانہ ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کی کھل کر حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری فریم ورک پر سفارتی پیش رفت متوقع ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی مجموعی صورتحال اب فہرست میں نہایت حساس اور فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف عسکری کشیدگی اور سخت معاشی پابندیاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم خطے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی چھوٹی سی عسکری چنگاری کا عالمی توانائی کی منڈی اور دنیا بھر کی معیشت پر براہِ راست اور تباہ کن اثر پڑ سکتا ہے۔