بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش: انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی پر سوالات

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی کی مجموعی صورتحال پر ایک بار پھر عالمی و علاقائی سطح پر شدید سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے والے متعدد عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی تشخص، تاریخی عبادت گاہوں اور مقدسات کو مسلسل نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں انتہا پسند ہندو تنظیم ‘بجرنگ دل’ کے کارکنوں نے مسلمانوں کی قدیم قبروں اور ایک تاریخی مزار کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کارروائی کے بعد متعدد انتہا پسندوں کی جانب سے جشن منانے کی مناظر بھی سامنے آئے، جبکہ اس مجرمانہ اقدام کو مبینہ طور پر ‘لینڈ جہاد’ کا بے بنیاد نام دے کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح کا ایک اور افسوسناک واقعہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے منڈاولی میں بھی سامنے آیا، جہاں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق ایک انتہا پسند گروپ کے سواروں نے مقامی مسلمانوں کو ان کی باقاعدہ نمازِ باجماعت کی ادائیگی سے زبردستی روکنے کی کوشش کی اور اشتعال انگیزی پھیلائی۔

تجزیہ کاروں اور معاشی و سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم برادری کے خلاف تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے یہ واقعات خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست قرار دینے والے بھارتی دعوؤں اور بنیادی مذہبی آزادی کے اصولوں کا پول کھول رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی و مقامی فعال کارکنوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تمام اقلیتوں کے مذہبی مقامات، عبادت کے بنیادی حق اور جان و مال کا تحفظ ہر مہذب ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، جس میں بھارتی حکومت مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔