جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے زبردست موقع، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی ترجیح ہے: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

محمود احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے ایک زبردست اور اہم موقع ہے، پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جبکہ اس سلسلے میں تمام ضروری قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیزی سے جاری ہے۔

بدھ کے روز یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس سے وفد کے ہمراہ ہونے والی اہم ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک اور سیکریٹری وزارت انسانی حقوق بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات، جی ایس پی پلس اسٹیٹس، انسانی حقوق سے متعلق ترجیحات، قومی ایکشن پلان 2026ء پر عملدرآمد اور دیگر متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر نے یورپی یونین کے وفد کو بچوں اور اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں چائلڈ لیبر، کم عمری کی شادی اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ اقلیتوں سے متعلق قومی کمیشن کو بھی جلد مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد، زیادتی کے کیسز اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے حکومت انتہائی سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ مل کر جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور جی ایس پی پلس کی ترجیحات پر مزید مؤثر پیش رفت کی جائے گی۔ اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے انسانی حقوق کی شقوں پر عملدرآمد میں پاکستان کی پیش رفت کی تعریف کی جبکہ دونوں جانب سے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیریوں کی شناخت اور حقوق کا مسئلہ مزید نمایاں ہوا؛ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے بھارتی یکطرفہ اقدامات نے نہ صرف خطے کی صورتحال کو ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل کیا بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق، منفرد شناخت اور مستقبل سے متعلق اہم قانونی و انسانی پہلوؤں کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیور عوام کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کا دن پوری دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے بے پناہ مشکلات، شدید غیر یقینی صورتحال اور اپنے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کی امن، انصاف اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی مسلسل خواہشات عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے انہوں نے اپنے پختہ یقین کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق آفاقی، ناقابلِ تقسیم اور ہر انسان کا بنیادی حق ہیں، اور دنیا کے ہر فرد کو بلاامتیاز عزت، مساوات، آزادی اور قانون کے مساوی تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنے اس اصولی اور قانونی مؤقف پر قائم ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا دائمی، منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام مناسب بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یومِ استحصالِ کشمیر پر ہم انصاف، انسانی وقار، امن اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ دن جلد آئے جب جموں و کشمیر کے عوام مکمل امن، آزادی اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکیں۔

بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش: انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی پر سوالات

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی کی مجموعی صورتحال پر ایک بار پھر عالمی و علاقائی سطح پر شدید سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے والے متعدد عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی تشخص، تاریخی عبادت گاہوں اور مقدسات کو مسلسل نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں انتہا پسند ہندو تنظیم ‘بجرنگ دل’ کے کارکنوں نے مسلمانوں کی قدیم قبروں اور ایک تاریخی مزار کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کارروائی کے بعد متعدد انتہا پسندوں کی جانب سے جشن منانے کی مناظر بھی سامنے آئے، جبکہ اس مجرمانہ اقدام کو مبینہ طور پر ‘لینڈ جہاد’ کا بے بنیاد نام دے کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح کا ایک اور افسوسناک واقعہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے منڈاولی میں بھی سامنے آیا، جہاں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق ایک انتہا پسند گروپ کے سواروں نے مقامی مسلمانوں کو ان کی باقاعدہ نمازِ باجماعت کی ادائیگی سے زبردستی روکنے کی کوشش کی اور اشتعال انگیزی پھیلائی۔

تجزیہ کاروں اور معاشی و سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم برادری کے خلاف تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے یہ واقعات خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست قرار دینے والے بھارتی دعوؤں اور بنیادی مذہبی آزادی کے اصولوں کا پول کھول رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی و مقامی فعال کارکنوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تمام اقلیتوں کے مذہبی مقامات، عبادت کے بنیادی حق اور جان و مال کا تحفظ ہر مہذب ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، جس میں بھارتی حکومت مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔