

منصور احمد, August 28,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے تہران میں ایک اہم اور خوش آئند اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان عالمی تجارتی اور بحری نقطہ نظر سے انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی بحری راہداری کھولنے پر حتمی اتفاق ہو گیا ہے۔ ایرانی دفاعی و سکیورٹی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کو خطے میں بحری سفر، تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت کو درپیش مشکلات و کشیدگی میں کمی کی جانب ایک انتہائی کلیدی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میجر جنرل محسن رضائی کے مطابق ایران اور سلطنتِ عمان کی باہمی مشاورت اور سفارتی و سکیورٹی کاوشوں کے نتیجے میں قائم کی جانے والی یہ نئی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے بالکل وسط میں واقع ہوگی۔ اس مخصوص راہداری کے ذریعے مختلف ممالک کے تجارتی و مال بردار بحری جہازوں کی بحفاظت آمد و رفت ممکن بنائی جا سکے گی، جس سے عالمی منڈیوں کو تجارتی سامان اور توانائی کی رسد کو بلا تعطل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے عارضی بحری راہداری کے باقاعدہ قیام کو آبنائے ہرمز جیسے دنیا کے انتہائی اہم سمندری راستے میں تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ معمول پر لانے کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت سے تعبیر کیا۔
اگرچہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اس مفاہمت اور عارضی راہداری کے بنیادی فریم ورک کی تصدیق کر دی ہے، تاہم اس نئی بحری گزرگاہ کے عملی آغاز کی حتمی تاریخ، بحری جہازوں کے اس راستے کو استعمال کرنے کے مخصوص طریقے اور اس عارضی منصوبے کی کل مدت سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر عام نہیں کی گئی ہیں۔ سفارتی و معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان یہ اتفاقِ رائے خطے کی کشیدہ صورتحال میں توازن پیدا کرنے اور عالمی بحری راستوں کی تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم میل پتھر ثابت ہوگا۔