ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کھولنے پر اتفاق: تہران کا اہم اعلان

منصور احمد, August 28,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے تہران میں ایک اہم اور خوش آئند اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان عالمی تجارتی اور بحری نقطہ نظر سے انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی بحری راہداری کھولنے پر حتمی اتفاق ہو گیا ہے۔ ایرانی دفاعی و سکیورٹی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کو خطے میں بحری سفر، تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت کو درپیش مشکلات و کشیدگی میں کمی کی جانب ایک انتہائی کلیدی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

میجر جنرل محسن رضائی کے مطابق ایران اور سلطنتِ عمان کی باہمی مشاورت اور سفارتی و سکیورٹی کاوشوں کے نتیجے میں قائم کی جانے والی یہ نئی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے بالکل وسط میں واقع ہوگی۔ اس مخصوص راہداری کے ذریعے مختلف ممالک کے تجارتی و مال بردار بحری جہازوں کی بحفاظت آمد و رفت ممکن بنائی جا سکے گی، جس سے عالمی منڈیوں کو تجارتی سامان اور توانائی کی رسد کو بلا تعطل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے عارضی بحری راہداری کے باقاعدہ قیام کو آبنائے ہرمز جیسے دنیا کے انتہائی اہم سمندری راستے میں تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ معمول پر لانے کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت سے تعبیر کیا۔

اگرچہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اس مفاہمت اور عارضی راہداری کے بنیادی فریم ورک کی تصدیق کر دی ہے، تاہم اس نئی بحری گزرگاہ کے عملی آغاز کی حتمی تاریخ، بحری جہازوں کے اس راستے کو استعمال کرنے کے مخصوص طریقے اور اس عارضی منصوبے کی کل مدت سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر عام نہیں کی گئی ہیں۔ سفارتی و معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان یہ اتفاقِ رائے خطے کی کشیدہ صورتحال میں توازن پیدا کرنے اور عالمی بحری راستوں کی تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم میل پتھر ثابت ہوگا۔

عالمی تحفظ پسندی کے باوجود چین کا معاشی معجزہ: 7 ماہ میں غیر ملکی تجارت 30 ٹریلین یوآن سے متجاوز

محمود احمد, August 08,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

عالمی سطح پر معاشی سست روی، تجارتی رکاوٹوں اور تحفظ پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے باوجود چین کی غیر ملکی تجارت نے غیر معمولی استحکام اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ رواں سال (2026ء) کے پہلے سات ماہ کے دوران چین کی اشیاء کی تجارت کا کل حجم 30.13 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17.3 فیصد زیادہ ہے۔

سی جی ٹی این اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس عرصے کے دوران چین کی عالمی برآمدات میں 14 فیصد جبکہ درآمدات میں 22 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رائٹرز سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں نے چینی تجارت کے ان اعداد و شمار کو متوقع اندازوں سے کہیں بہتر اور حیران کن قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی بین الاقوامی طلب نے چینی برآمدات کو زبردست تقویت بخشی ہے۔

چائنا رین مین یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر وانگ شیاؤ سونگ نے اس معاشی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین کے پاس دنیا کا سب سے مکمل اور مربوط صنعتی نظام موجود ہے، جو بلا تعطل اور مؤثر سپلائی چین کو یقینی بناتا ہے۔ یہی مضبوط پیداواری بنیاد چین کی تجارتی اور معاشی پائیداری کی اصل ضامن ہے۔

چین کی اس شاندار کارکردگی کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ، ڈوئچے بینک اور دیگر معروف عالمی مالیاتی اداروں نے سال 2026ء کے لیے چین کی جی ڈی پی کی متوقع شرحِ نمو میں اضافہ کر دیا ہے، جو عالمی معیشت میں چین کے قائدانہ کردار کا واضح ثبوت ہے۔