مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن کے حصول میں معاون ثابت ہوگا: بشکیک میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا تاریخی اعلان

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

بشکیک/انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اس عزم کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا تاریخی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ خطے سمیت عالمی سطح پر پائیدار امن اور استحکام کے حصول میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ترک صدر نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ علاقائی خود مختاری، ملکیت اور اجتماعی مزاحمت کی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا جانے والا یہ سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے امن اور دفاعی توازن کی ضمانت بنے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس اہم معاہدے کی سیاسی اور دفاعی سٹریٹجک کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ دفاعی صنعت، اسلحہ سازی، مشترکہ پیداوار اور جدید ترین ملٹری ٹیکنالوجی کی ترقی کے شعبوں میں ایک دوسرے سے مکمل اور مضبوط تعاون قائم کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق اس اشتراکِ عمل اور مشترکہ سرگرمیوں کا بنیادی مقصد تینوں مسلم ممالک کی دفاعی صلاحیتوں، حربی مہارت اور مسلح افواج کے باہمی توازن و استعداد کو آئندہ چیلنجز کے مقابلے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور جدید بنانا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات: دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور علاقائی امن پر تفصیلی گفتگو

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے 25ویں اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم آفس سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی، تاریخی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تجارتی و معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران رواں سال جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہونے والے اہم فیصلوں اور معاہدوں پر جلد از جلد عملدرآمد کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے جاری مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ اہم دورۂ تہران اور وہاں ایرانی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کے ساتھ ہونے والے مثبت رابطوں سے دونوں ممالک اور خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی سازگار نتائج کی توقع ہے۔

وزیراعظم نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے تمام فریقین کی جانب سے تحمل، بردباری اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تحت طے پانے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور گہرے مذہبی رشتوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے تجارتی و توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مسلم دنیا میں باہمی اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔

ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی باقاعدہ دعوت دی، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو دسمبر 2026ء میں تہران میں منعقد ہونے والے ‘اقتصادی تعاون تنظیم’ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت پیش کی۔