ایران کا سرکاری بینک سپہ جرمنی میں دیوالیہ: فرینکفرٹ شاخ مالیاتی واجبات کی ادائیگی میں ناکام

محمود احمد, September 10,2026

برلن (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

جرمنی کے بااختیار وفاقی مالیاتی نگران ادارے بافن نے ایران کے سرکردہ سرکاری بینک “بینک سپہ” کی جرمنی کے تجارتی مرکز فرینکفرٹ میں قائم باضابطہ شاخ کو اپنے تمام مالیاتی قرضوں اور دیگر تمام انتظامی و تجارتی ذمہ داریاں پوری کرنے سے یکسر قاصر قرار دے دیا ہے۔

جرمنی کے وفاقی مالیاتی نگران ادارے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی یہ جرمن شاخ اب اپنے کھاتے داروں اور تجارتی صارفین کی جمع شدہ کروڑوں یورو کی رقوم واپس کرنے کی عملی و قانونی پوزیشن میں بالکل نہیں رہی ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اس سخت قانونی نوٹس کے بعد جرمنی کی بینکاری دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے بینک سپہ کی اہم جرمن شاخ یورو زون کے سب سے اہم اور بنیادی مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں واقع ہے، جو نہ صرف جرمنی کا معاشی حب ہے بلکہ جہاں یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کا مرکزی دفتر بھی قائم ہے۔

ایران کے اس بینک کی جرمن سرگرمیاں اور تجارتی لین دین اس سے قبل بھی جرمن مالیاتی نگران ادارے کی خصوصی توجہ اور کڑی نگرانی کا مرکز رہے ہیں۔ بافن نے اس سے قبل نومبر 2017ء کے دوران بھی فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی اس شاخ کو اگلے حکمِ ثانی تک صارفین یا تجارتی کمپنیوں کو نئے قرضے جاری کرنے سے سخت قانونی حکم کے تحت روک دیا تھا۔

اس وقت بافن کی جانب سے عائد کی جانے والی اس پابندی کی حتمی یا تفصیلی وجوہات میڈیا کے سامنے عام نہیں کی گئی تھیں اور یہ بھی واضح نہیں ہو سکا تھا کہ نگران ادارے کے شدید تحفظات بینک کی طرف سے دیے گئے مجموعی قرضوں کے حجم پر تھے یا صارفین کے قرضوں کی واپسی سے متعلق معاہدوں اور قانونی طریقہ کار پر مرکوز تھے۔

جرمن مالیاتی اتھارٹی کے موجودہ حتمی فیصلے اور بینک کو نااہل قرار دیے جانے سے جرمنی میں ایران کے سرکاری بینک سپہ کی مالیاتی صورتحال، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ اور صارفین کے کروڑوں روپے کے واجبات کی بحفاظت ادائیگی کی صلاحیت پر انتہائی سنجیدہ عالمی اور قانونی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔