جزیرہ خارگ میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق اور پرسکون ہے: ایرانی میڈیا کی تازہ وضاحت

محمود احمد, September 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کے اہم ترین خام تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق، محفوظ اور پرسکون ہے۔

ایرانی میڈیا اداروں کی جانب سے فراہم کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق اس سے قبل گردش کرنے والی ان رپورٹس کے بعد کہ امریکی فورسز نے جزیرہ خارگ کے قریب لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے، اب صورتحال کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس مبینہ واقعے پر نہ تو ایرانی حکومت و دفاعی حکام نے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی امریکی حکام نے کوئی تبصرہ کیا ہے۔

ایران کی طلبہ خبر رساں ایجنسی نے جزیرہ خارگ اور اس کے ارد گرد کے ساحلی علاقوں کی تازہ ترین تصاویر اور فوٹیج جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں کسی قسم کی آگ، تباہی یا دھوئیں کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے اور تمام تر معاشی و آپریشنل سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

ادھر نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق مبینہ حملے اور دھماکوں کے وقت ایرانی آئل ٹینکر جزیرہ خارگ کے ساحل سے تقریباً چھ میل (11 کلومیٹر) کے فاصلے پر کھلے سمندر میں موجود تھا، تاہم جزیرے کی تنصیبات اور مقامی حدود مکمل طور پر محفوظ اور بحال ہیں۔

ایران پر امریکی فضائی حملوں میں تین انتہائی ہنر مند فوجی پائلٹس سمیت متعدد عسکری اہلکار شہید: تسنیم نیوز ایجنسی کی تصدیق

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران پر امریکی فورسز کے حالیہ شدید ترین فضائی و میزائل حملوں کے نتیجے میں اہم ایرانی عسکری اثاثوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو پہنچنے والے شدید نقصان کی پردہ کشائی ہوئی ہے، جہاں ایرانی کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم نیوز’ نے تین اعلیٰ ایرانی فوجی پائلٹس کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے قریب سمجھے جانے والے ابلاغی ادارے تسنیم نیوز نے بتایا کہ دو رات قبل ایران کے مختلف حساس عسکری مراکز پر ہونے والی امریکی فضائی بمباری میں تین ایرانی فوجی پائلٹس ہلاک ہوئے، تاہم ایجنسی کی جانب سے فی الوقت سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ پائلٹس کو کس مخصوص مقام پر ہدف بنایا گیا۔

تسنیم نیوز کے جاری کردہ ناموں کے مطابق ہلاک ہونے والے پائلٹس میں مجتبیٰ باقری، ایرانی بحریہ کے پائلٹ حامد اوکاٹی اور ایرانی فضائیہ کے پائلٹ حسین مہدویان شامل ہیں۔ ایک علیحدہ مفصل رپورٹ میں تسنیم نیوز نے ایرانی آرمی فورسز (ارتش) کے مزید چھ ارکان کی ہلاکت کے نام بھی جاری کیے جو ملک کے جنوبی حصوں میں امریکی حملوں کا نشانہ بنے۔

یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ایک طویل وقفے کے بعد جنوبی ایران کے متعدد شہروں، پورٹس اور عسکری سائٹس پر خوفناک بمباری کی تھی۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق، سرک کے علاقے کوہستک پر حملے کے علاوہ خوزستان کے اہم صنعتی اور شہری علاقوں اہواز اور آغاجاری میں کیے گئے امریکی حملوں میں سات افراد ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک شخص کی شناخت ‘عوامی سکیورٹی فورسز’ کے رکن کے طور پر کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، پاسدارانِ انقلاب نے بھی باضابطہ تصدیق کی تھی کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار سینئر ارکان شہید ہوئے ہیں، جبکہ خلیج فارس میں واقع تزویراتی لاوان جزیرے پر امریکی بمباری کے نتیجے میں رضاکار بسیج فورس کے بھی تین اہلکار مارے گئے ہیں۔