ایران میں امریکی حملے کے دوران شادی کی تقریب میں شہریوں کی ہلاکت: امریکی سینٹرل کمانڈ نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا

محمود احمد, September 04,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کے روز ایران میں جاری امریکی فضائی حملوں کے دوران ایک شادی کی تقریب پر ہونے والی بمباری اور اس کے نتیجے میں متعدد عام شہریوں کی ہلاکت کی باضابطہ اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی جریدے ‘ایگزیوس’ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تک اس بات کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ المناک واقعہ براہِ راست امریکی حملے کا نتیجہ تھا یا نہیں، تاہم اگر تحقیقات میں اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ چھ ماہ قبل امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ شمار ہوگا۔

ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بدھ کے روز اس واقعے کا فوری طور پر اندرونی جائزہ لینے کے سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔

یہ پیشرفت عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی اس رپورٹ کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس میں اسلحہ جات کے ماہرین کی تجزیاتی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ایرانی شہر ‘کوہستک’ میں شادی کی تقریب پر ہونے والا ہولناک دھماکہ ممکنہ طور پر امریکی گائیڈڈ ہتھیار کے براہِ راست ٹکرانے کے باعث ہوا، اور یہ کسی ایرانی فضائی دفاعی میزائل کی غلط سمت یا بالواسطہ ٹکراؤ کا نتیجہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اس چھ ماہ طویل جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا اور ہولناک واقعہ جنگ کے بالکل پہلے دن پیش آیا تھا، جب ایرانی شہر کے ایک سکول پر امریکی فضائی حملے میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں بچوں کی اکثریت شامل تھی۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق سکول پر ہونے والے اس حملے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ بھی جلد مکمل کر کے عام کی جائے گی۔

ایران پر امریکی فضائی حملوں میں تین انتہائی ہنر مند فوجی پائلٹس سمیت متعدد عسکری اہلکار شہید: تسنیم نیوز ایجنسی کی تصدیق

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران پر امریکی فورسز کے حالیہ شدید ترین فضائی و میزائل حملوں کے نتیجے میں اہم ایرانی عسکری اثاثوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو پہنچنے والے شدید نقصان کی پردہ کشائی ہوئی ہے، جہاں ایرانی کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم نیوز’ نے تین اعلیٰ ایرانی فوجی پائلٹس کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے قریب سمجھے جانے والے ابلاغی ادارے تسنیم نیوز نے بتایا کہ دو رات قبل ایران کے مختلف حساس عسکری مراکز پر ہونے والی امریکی فضائی بمباری میں تین ایرانی فوجی پائلٹس ہلاک ہوئے، تاہم ایجنسی کی جانب سے فی الوقت سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ پائلٹس کو کس مخصوص مقام پر ہدف بنایا گیا۔

تسنیم نیوز کے جاری کردہ ناموں کے مطابق ہلاک ہونے والے پائلٹس میں مجتبیٰ باقری، ایرانی بحریہ کے پائلٹ حامد اوکاٹی اور ایرانی فضائیہ کے پائلٹ حسین مہدویان شامل ہیں۔ ایک علیحدہ مفصل رپورٹ میں تسنیم نیوز نے ایرانی آرمی فورسز (ارتش) کے مزید چھ ارکان کی ہلاکت کے نام بھی جاری کیے جو ملک کے جنوبی حصوں میں امریکی حملوں کا نشانہ بنے۔

یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ایک طویل وقفے کے بعد جنوبی ایران کے متعدد شہروں، پورٹس اور عسکری سائٹس پر خوفناک بمباری کی تھی۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق، سرک کے علاقے کوہستک پر حملے کے علاوہ خوزستان کے اہم صنعتی اور شہری علاقوں اہواز اور آغاجاری میں کیے گئے امریکی حملوں میں سات افراد ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک شخص کی شناخت ‘عوامی سکیورٹی فورسز’ کے رکن کے طور پر کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، پاسدارانِ انقلاب نے بھی باضابطہ تصدیق کی تھی کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار سینئر ارکان شہید ہوئے ہیں، جبکہ خلیج فارس میں واقع تزویراتی لاوان جزیرے پر امریکی بمباری کے نتیجے میں رضاکار بسیج فورس کے بھی تین اہلکار مارے گئے ہیں۔

40 روزہ جنگ کا شديد ترین امریکہ حملہ: ایران کے مختلف صوبوں پر بمباری سے 18 افراد ہلاک اور 108 زخمی

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکی فورسز کے درمیان جاری 40 روزہ ہلاکت خیز جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب مختلف ایرانی صوبوں پر شدید ترین بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون، بچے، سیکیورٹی اہلکاروں اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈوز سمیت 18 افراد ہلاک جبکہ 108 سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

ایران کے وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے میڈیا کو جاری کردہ ایک اہم ہنگامی اعلان میں امریکی حملوں کی ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رواں 40 روزہ جنگ کے دوران ہونے والے خطرناک اور شديد ترین امریکی حملوں میں سے ایک تھا جس نے مختلف صوبوں کے کئی رہائشی و عسکری سائٹس کو نشانہ بنایا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی بمباری کے دوران سیرِک کے پہاڑی علاقے کو بھی ہدف بنایا گیا، جہاں ایک گھر میں جاری شادی کی پرمسرت تقریب پر حملہ آور بمباری کے اثرات پڑے اور ایک بچے و خاتون سمیت چار افراد جان بحق اور 65 افراد زخمی ہو گئے۔ ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے صدر پژمان شاہروخی نے بتایا کہ سیرِک کے اس واقعے کے 6 زخمی انتہائی نگہداشت کے وارڈ اور 26 سرجیکل وارڈز میں شدید حالت میں زیرِ علاج ہیں۔

بی بی سی فارسی کی جانب سے رابطہ کرنے پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ان ہلاکت خیز حملوں کی تردید نہیں کی اور موقف اپنایا کہ امریکی فوج ان رپورٹس سے مکمل طور پر ‘آگاہ’ ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی افواج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔

امریکی ایئر سٹرائیکس کے مزید اثرات خوزستان صوبے میں اہواز اور آغاجاری کے مختلف مقامات پر دیکھنے کو ملے جہاں بمباری سے سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ‘عوامی سکیورٹی فورسز’ کا اہم رکن بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار اعلیٰ اہلکار امریکی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جبکہ لاوان جزیرے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں بسیج فورسز کے بھی تین اہلکار مارے گئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر زبردست فضائی حملے، بندر عباس اور چابہار سمیت متعدد ساحلی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے منگل کے روز ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے مختلف اہم عسکری ٹھکانوں اور تنصیبات پر بمباری کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شدید فضائی حملے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے ردِعمل کے طور پر کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس نیوز‘ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ایران کے ساحلی اور تزویراتی علاقوں کونارک، چابہار، بندر عباس، سیرک اور جزیرہ قشم میں انتہائی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام مقامات پر یکے بعد دیگرے کئی انفجارات ہوئے، تاہم خبر رساں ایجنسی نے ابھی تک ان دھماکوں کے عین مقام یا ہونے والے مالی و جانی نقصانات کی حتمی وضاحت نہیں کی ہے۔

عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کے آس پاس ایرانی ساحلی شہروں اور جزائر کو ہدف بنایا جانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی افواج ایران کی ساحلی دفاعی صلاحیتوں اور پاسدارانِ انقلاب کے نیول اور میزائل انفراسٹرکچر کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے اس خطے میں باقاعدہ وسیع پیمانے کی جنگ کے خطرات شدید ہو گئے ہیں۔