انسانی وقار کا تحفظ: تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کو کسی بھی مہذب معاشرے میں سراسر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی مکمل منافی ہیں۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار ہونے والے مظلوموں سے پرخلوص انداز میں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان انسان کے تقدس و وقار سے متعلق اسلامی اقدار کی رہنمائی اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں تمام افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے معاشرتی تشدد کے متاثرین بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کے قانونی حقدار ہیں، جبکہ تشدد کے مرتکب عناصر کا کڑا احتساب یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی تحفظ و نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم نے غیر ملکی قابضین کی طرف سے منظم انداز میں تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام ریاستی جبر و استبداد، قابضین کے بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان قابضین کے جرائم کی مذمت اور ان کی جوابدہی اب مشترکہ عالمی ذمہ داری بن چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے عالمی برادری کی توجہ خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری دہائیوں پر محیط ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کی مشکلات و مصائب کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد مستند رپورٹوں میں مقبوضہ کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست وحشیانہ تشدد، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بھارتی اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو کہ وہاں منظم تشدد کی عالمی تصدیق ہے۔ وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

انسانی وقار کا تحفظ: پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن منایا گیا، ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کے خاتمے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنے پر زور


اسلام آباد/ نیوز ڈیسک( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے خلاف اور اس کا شکار ہونے والے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن جمعہ 26 جون کو مقتدر انداز میں منایا گیا ہے۔ اس اہم ترین دن کو عالمی سطح پر منانے کا بنیادی مقصد تشدد سے متاثرہ بے گناہ افراد کی نفسیاتی و جسمانی بحالی، ان کے لیے قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور کائنات کے تمام انسانوں پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی شعور کو بیدار کرنا ہے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تشدد تمام ہی انسانی معاشروں میں کسی نہ کسی مقتدر صورت اور کسی نہ کسی سطح پر ہمیشہ موجود رہا ہے، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے اس عالمی دن کے مقتدر موقع پر دنیا بھر میں مہم جوئی کا حصہ بننے والے متاثرین اور ایسے دردناک واقعات میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے افراد کو ان کی جرات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ انسانی وقار کی بحالی کے لیے تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا رسوا کن سلوک اور سخت سزا کے خلاف اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ایک مقتدر عالمی معاہدہ عمل میں لایا گیا تھا، جس کی تزویراتی اہمیت کے پیشِ نظر اب تک امریکہ سمیت دنیا کے 166 ممالک اس عالمی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر چکے ہیں۔

اس مقتدر دن کی مناسبت سے پاکستان اور دنیا بھر میں سرکاری، غیر سرکاری، فلاحی اور رفاعی اداروں کے زیرِ اہتمام خصوصی سیمینارز اور شعوری تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ان مقتدر تقاریب میں مقررین نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے، تشدد کے متاثرین کی مالی و اخلاقی تلافی کرنے، ان کی طبی و سماجی بحالی کے نظام کو مؤثر بنانے اور انسانوں پر وحشیانہ تشدد میں ملوث سنگدل عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کڑی سزا دینے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے پر مقتدر آگاہی فراہم کی، تاکہ ایک پرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔