حق و حریت کا ابدی بیانیہ: کربلا ناانصافی کے خلاف پکار رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور امن کے لیے موثر اقدامات اٹھائے، مشعال حسین ملک

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد (کشمیر امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

جیل میں بند مقتدر حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور ممتاز کشمیری رہنما مشعال حسین ملک نے عالمی برادری پر پرزور انداز میں دباؤ ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے، انصاف کی فراہمی اور دیرپا امن کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر بامعنی اور موثر اقدامات اٹھائے۔ محرم الحرام کے مقتدر موقع پر جاری کیے گئے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ کربلا کا لازوال پیغام پوری دنیا میں جاری ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا ابدی درس دیتا ہے۔

مشعال حسین ملک نے معرکہ کربلا کے نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی سچائی، انصاف، صبر اور استقامت کی ایک ایسی لازوال علامت ہے جو دنیا بھر میں اپنے وقار اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی مظلوم قوموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی یہ بے مثال قربانی جرات، صداقت اور مقتدر انصاف کے لیے غیر متزلزل عزم کے اعلیٰ ترین انسانی نظریات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کربلا کا پیغام وقت اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے، جو محکوم اور مظلوم قوموں کو امید، حوصلہ اور طاقت دیتا ہے اور انسانیت کو یہ سکھاتا ہے کہ کس طرح پورے وقار اور استقامت کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مقبوضہ وادی کی مقتدر صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے لوگ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے بے پناہ مشکلات، مظالم اور لازوال قربانیوں کو برداشت کرتے ہوئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ مشعال حسین ملک نے اصرار کیا کہ محرم الحرام کا یہ مقدس مہینہ امتِ مسلمہ سمیت وسیع تر عالمی برادری کو اس مقتدر ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے کہ وہ ہر حال میں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، آپس میں اتحاد، رواداری اور ہمدردی کو فروغ دیں اور معاشرے میں انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ غاصبانہ طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے جبکہ سچائی، الٰہی قربانی اور اصولوں کی غیر متزلزل عملداری ہمیشہ ابدی رہتی ہے اور دنیا بھر کی آنے والی نسلوں کو حق پر جینے کا حوصلہ دیتی رہے گی۔

انسانی وقار کا تحفظ: تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کو کسی بھی مہذب معاشرے میں سراسر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی مکمل منافی ہیں۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار ہونے والے مظلوموں سے پرخلوص انداز میں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان انسان کے تقدس و وقار سے متعلق اسلامی اقدار کی رہنمائی اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں تمام افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے معاشرتی تشدد کے متاثرین بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کے قانونی حقدار ہیں، جبکہ تشدد کے مرتکب عناصر کا کڑا احتساب یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی تحفظ و نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم نے غیر ملکی قابضین کی طرف سے منظم انداز میں تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام ریاستی جبر و استبداد، قابضین کے بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان قابضین کے جرائم کی مذمت اور ان کی جوابدہی اب مشترکہ عالمی ذمہ داری بن چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے عالمی برادری کی توجہ خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری دہائیوں پر محیط ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کی مشکلات و مصائب کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد مستند رپورٹوں میں مقبوضہ کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست وحشیانہ تشدد، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بھارتی اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو کہ وہاں منظم تشدد کی عالمی تصدیق ہے۔ وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔