

محمود احمد, September 13,2026
صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء
یمن میں جاری شدید عسکری کشیدگی کے دوران حوثی گروپ کے باضابطہ میڈیا چینل ‘المسیرہ’ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں اور بمبار فورسز نے یمن کے دو اہم اضلاع تعز اور صعدہ میں متعدد فضائی و دفاعی حملے کیے ہیں۔
حوثی ٹیلی ویژن المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی جتھے اور جنگی طیاروں نے تعز کے ان مخصوص تزویراتی علاقوں کو بالخصوص نشانہ بنایا جہاں ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے حالیہ چند ایام میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف اہم پیش رفت اور پیش قدمی کی تھی۔
بی بی سی فارسی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے المسیرہ نے مزید انکشاف کیا کہ سعودی جیٹس نے شمالی یمن میں حوثی تحریک کے مرکزی گڑھ اور سیکیورٹی ہیڈکوارٹر سمجھے جانے والے صوبے ‘صعدہ’ میں بھی متعدد عسکری اہداف پر بمباری کی ہے۔ اس کے علاوہ صعدہ کے قریبی سرحدی علاقے ‘منبہ’ میں سعودی بارڈر فورسز کی جانب سے بھاری توپ خانے سے فائرنگ کی اطلاعات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اس سے قبل حوثی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے گروپ نے جنوبی سعودی عرب میں قائم اہم شرورہ فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں اور عسکری ڈرونز کی مدد سے بھاری حملہ کیا ہے۔
تاہم، سعودی عرب کے سرکاری حکام یا سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی جانب سے حوثیوں کے اس مبینہ ڈرون و میزائل حملے یا یمن کے اضلاع تعز اور صعدہ پر کی جانے والی حالیہ بمباری کے دعوؤں کی فی الوقت آزادانہ طور پر یا باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر حوثیوں کے زیرِ انتظام نشریاتی ادارے ‘المسیرہ’ اور عالمی میڈیا ہاؤسز کی ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے। تعز اور صعدہ میں سعودی فضائی کارروائیوں اور سعودی ملٹری بیس پر حوثی حملوں کے دعوؤں کی تاحال سعودی حکام یا آزاد بین الاقوامی نگرانوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
ماخذ: المسیرہ ٹی وی (Al-Masirah TV)، بی بی سی فارسی (BBC Persian)، بین الاقوامی خبر رساں ادارے (AFP)