پاکستان اور امریکہ کے درمیان 5 سالہ فل برائٹ ایچ ای سی معاہدے کی تجدید: اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے 6.4 ارب روپے سے زائد مختص

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

پاکستان اور امریکہ نے اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور انسانی وسائل کی پیشہ ورانہ ترقی کو وسعت دینے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور یونائیٹڈ سٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کے درمیان تاریخی پانچ سالہ فل برائٹ-ایچ ای سی معاہدے کی باقاعدہ تجدید کر دی ہے۔

وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تجدید شدہ معاہدہ مالی سال 2026-27ء سے مالی سال 2031-32ء تک اگلے پانچ برسوں کے لیے نافذ العمل رہے گا۔ اس معاہدے کے تحت فل برائٹ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز، پوسٹ ڈاکٹریٹ وزٹنگ اسکالر پروگرام، فارن لینگوئج ٹیچنگ اسسٹنٹ پروگرام اور ہیوبرٹ ایچ ہمفری فیلوشپ پروگرام کے ذریعے پاکستانی طلبہ اور محققین کو امریکی جامعات میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

معاہدے کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے دوران 66 پاکستانی پی ایچ ڈی اسکارلرز کو خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس فنڈنگ کے لیے ایچ ای سی سالانہ کم از کم 4.54 ملین ڈالر فراہم کرے گا جبکہ پانچ سال کی مدت میں مجموعی مالیاتی حجم 6.48 ارب روپے تک ہوگا۔ مزید برآں، یو ایس ای ایف پی کے پاس موجود فنڈز سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی مزید اسکالرشپس کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔

معاہدے کی اہم شرط کے مطابق اسکارلرز کا انتخاب مکمل طور پر شفاف میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور کسی خطے یا شعبے کے لیے کوئی مخصوص کوٹہ نہیں ہوگا، جبکہ انتخابی کمیٹی میں ایچ ای سی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ پروگرام کی کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ جائزہ کمیٹی سال میں دو بار اجلاس منعقد کرے گی اور تمام مالیاتی معاملات کا سالانہ آڈٹ کرایا جائے گا۔

یہ معاہدہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی شراکت داری کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہے جو کہ فروری 2016ء کے ابتدائی معاہدے کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں معیاری اعلیٰ تعلیم، جدت اور بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی روابط کو بے حد فروغ حاصل ہوگا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے تاریخ رقم کر دی: داخلوں کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا آغاز

روزینہ اسماعیل, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے طلبہ کو بروقت تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کی خصوصی ہدایات پر سمسٹر خزاں 2026ء کے داخلوں کا عمل جاری رہتے ہی داخلہ لینے والے طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل بھی شروع کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ داخلے جاری ہونے کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی فراہمی کا عمل بھی بیک وقت شروع کیا گیا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ طلبہ کو کتب کے انتظار سے نجات دلانا اور بروقت تعلیمی مواد فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو تعلیمی سفر کے آغاز ہی پر ضروری تعلیمی مواد فراہم کرنا اور فاصلاتی نظامِ تعلیم کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے سالانہ تعلیمی کیلنڈر کے مطابق کتب کی ترسیل مقررہ نظام الاوقات کے تحت مکمل کی جائے اور ہر طالب علم کو اس کے داخل شدہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل سیٹ بروقت فراہم کیا جائے۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے گزشتہ سمسٹر کے دوران طلبہ کو کتب کے نامکمل سیٹس موصول ہونے سے متعلق شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ رواں سمسٹر میں اس نوعیت کی شکایات سامنے نہیں آنی چاہئیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر طالب علم کے منتخب کردہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل پیکٹ انتہائی احتیاط سے تیار کیا جائے اور اس کی بروقت ترسیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی تیاری اور ترسیل کے عمل میں دستیاب افرادی قوت، وسائل اور انتظامی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے تاکہ طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شعبہ داخلہ کے ڈائریکٹر سید ضیاء الحسنین نے وائس چانسلر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ایسوسی ایٹ ڈگری اِن آرٹس اور ایسوسی ایٹ ڈگری اِن کامرس کے طلبہ کو درسی کتب ارسال کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر پروگرامز میں داخلہ لینے والے طلبہ کو بھی مرحلہ وار مقررہ نظام الاوقات کے مطابق کتب کی ترسیل جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سمسٹر خزاں 2026ء میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا عمل 15 نومبر 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی ترسیل کے عمل کو داخلوں کے ساتھ مربوط کرنے سے طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز ہی سے اپنے متعلقہ کورسز کے مطالعاتی مواد تک رسائی حاصل ہوگی جس سے انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی بروقت منصوبہ بندی اور مطالعے میں آسانی ہوگی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا یہ اقدام محض کتب کی ترسیل کے نظام میں بہتری نہیں بلکہ طلبہ کے وقت کی قدر، تعلیمی تسلسل اور بروقت خدمات کی فراہمی کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ داخلوں کے ساتھ ہی درسی کتب کی ترسیل کا آغاز فاصلاتی تعلیم کے طلبہ کے لیے ایک اہم سہولت ہے جو یونیورسٹی کی انتظامی کارکردگی، تعلیمی خدمات میں بہتری اور طلبہ مرکز پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔